(14071 -) عن أبي الطفيل قال : جاءت فاطمة إلى أبي بكر الصديق فقالت : يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، أنت ورثت رسول الله صلى الله عليه وسلم أم أهله ؟ قال : لا بل أهله ، قالت : فما بال الخمس ؟ فقال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إذا أطعم الله نبيا طعمة ، ثم قبضه ، كانت للذي يلى بعده ، فلما وليت رأيت أن أرده على المسلمين ، قالت : فأنت وما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم أعلم ثم رجعت.
(حم م د وابن جرير هق)
14071 ابو الطفیل مروی ہے کہ حضرت فاطمہ (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس تشریف لائیں اور عرض کیا : اے خلیفۃ رسول اللہ ! کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وارث آپ ہیں یا ان کے اہل خانہ ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں، بلکہ ان کے اہل خانہ۔ عرض کیا : پھر خمس کا کیا بنا ؟ فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی نبی کو روزی دیتا ہے پھر اس کو اٹھالیتا ہے تو وہ روزی اس کے بعد آنے والے نائب کے لیے ہوتی ہے۔ پس جب میں والی بنا تو میں نے خیال کیا کہ اس روزی کو مسلمانوں پر واپس لوٹا دوں۔ حضرت فاطمہ (رض) نے عرض کیا : آپ اور جو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا میں جانتی ہوں یہ کہہ کر آپ (رض) واپس تشریف لے گئیں۔ مسند احمد ، مسلم، ابوداؤد، ابن جریر، السنن للبیہقی