hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14072

.

كنز العمال

14072
Kanz al-Ummal
14072- عن القاسم بن محمد أن النبي صلى الله عليه وسلم لما توفي اجتمعت الأنصار إلى سعد بن عبادة، فأتاهم أبو بكر وعمر وأبو عبيدة بن الجراح فقام حباب بن المنذر، وكان بدريا فقال: منا أمير ومنكم أمير، فإنا والله ما ننفسهذا الأمر عليكم أيها الرهط، ولكنا نخاف أن يليه أقوام قتلنا آباءهم وإخوتهم، فقال له عمر إذا كان ذلك فمت إن استطعت فتكلم أبو بكر فقال: نحن الأمراء وأنتم الوزراء وهذا الأمر بيننا وبينكم نصفين كقد الأبلمةيعني الخوصة فبايع أول الناس بشير بن سعد أبو النعمان فلما اجتمع الناس على أبي بكر قسم بين الناسقسما فبعث إلى عجوز من بني عدي بن النجار [قسمها] مع زيد بن ثابت فقالت: ما هذا؟ قال: قسم قسمه أبو بكر للنساء، فقالت أتراشونيعن ديني؟ فقالوا: لا؛ فقالت: أتخافون أن أدع ما أنا عليه؟ فقالوا: لا؛ فقالت: والله لا آخذ منه شيئا أبدا؛ فرجع زيد إلى أبي بكر فأخبره بما قالت، فقال أبو بكر: ونحن لا نأخذ مما أعطيناها شيئا أبدا. "ابن سعد وابن جرير"
14072 قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو انصار حضرت سعد بن عبادۃ کے پاس اکٹھے ہوئے۔ پھر ان کے پاس حضرات ابوبکر، عمر اور ابو عبیدۃ بن الجراح (رض) (مہاجرین صحابہ) تشریف لائے۔ پھر حبان بن المنذر جو بدری (اور انصاری) صحابی تھے اٹھ کر کھڑے ہوئے اور بولے : ایک امیر ہم (انصار) میں سے ہوگا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے ہوگا۔ اے جماعت (مہاجرین ! ) ہم ہرگز اس بوجھ کو تنہا تمہارے کاندھوں پر نہیں چھوڑیں گے۔ کیونکہ ہمیں خوف ہے کہ سلطنت کے بڑے ایسے لوگ نہ بن جائیں ہم نے جن کے باپوں اور بھائیوں کو تہ تیغ کیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : اگر یہ بات ہے تو تو مرجا اگر تجھ سے ہو سکے۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم امراء ہوں گے اور تم ہمارے وزراء ہوں گے۔ اور یہ سلطنت ہمارے اور تمہارے درمیان نصف ہوئی جس طرح کھجور کے پتے کو درمیان سے دو مساوی حصوں میں توڑا جائے تو وہ بالکل آدھا آدھا ہوجاتا ہے۔
چنانچہ سب سے پہلے حضرت ابوالنعمان بشیر بن سعد نے آپ (رض) کی بیعت کی (اور پھر عام بیعت ہوئی) جب لوگ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ نے لوگوں کے درمیان مال تقسیم کیا۔ اور بنی عدی بن النجار کی ایک بڑھیا کو اس کا حصہ حضرت زید بن ثابت (رض) کے ہاتھوں بھیجا۔ بڑھیا نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ زید (رض) نے فرمایا : حصہ ہے عورتوں کا، حضرت ابوبکر (رض) نے بھیجا ہے۔ بڑھیا بولی ! کیا تم مجھے میرے دین میں رشوت دے رہے ہو۔ حاضرین نے کہا : ہرگز نہیں، بڑھیا بولی : پھر تم کیا اس بات سے خوفزدہ ہو کہ میں اپنے موقف سے پیچھے جاؤں گی ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ بڑھیا بولی : اللہ کی قسم ! میں ہرگز اس سے کچھ نہیں لوں گی۔ حضرت زید (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس واپس آئے اور بڑھیا کی بات کہہ سنائی۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اور ہم بھی جو اس کو دے چکے ہیں ہرگز کبھی بھی واپس نہیں لیں گے۔ ابن سعد، ابن جریر