hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14088

.

كنز العمال

14088
Kanz al-Ummal
14088- أخبرنا محمد بن عمر [هو الواقدي] حدثني عمرو بن عمير بن هني مولى عمر بن الخطاب عن جده أن أبا بكر الصديق لم يحم من الأرض إلا النقيعوقال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم حماه وكان يحميه للخيل التي يغزي عليها وكانت إبل الصدقة إذا أخذت عجافا أرسل بها إلى الربذة وما والاها ترعى هنالك ولا يحمي لها شيئا ويأمر أهل المياه لا يمنعون من ورد عليهم يشرب معهم ويرعى عليهم، فلما كان عمر بن الخطاب وكثر الناس وبعث البعوث إلى الشام وإلى مصر وإلى العراق حمى الربذة واستعملني على الربذة. "ابن سعد"
14088 ہمیں محمد بن عمر (واقدی) نے خبر دی کہ مجھے زمین اپنے لیے حمصی (خاص) نہیں کی سوائے نقیع کے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے (جہادی) گھوڑوں کے لیے خاص کررکھی تھی۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تھا کہ آپ نے اس جگہ کو اپنے لیے خاص کیا تھا اور اس میں اپنے گھوڑوں کی حفاظت کرتے تھے جو جہاد میں کام آتے تھے۔ اور جب آپ (رض) کے زمانے میں کمزور لاغر اونٹ آپ کے پاس آتے تو ان کو ربذۃ بھیج دیتے اور جوان اونٹوں کی نگہبانی کرتا وہ بھی وہیں چراتا تھا۔ اور ربذۃ کو حمی (خاص) نہیں کیا تھا۔ بلکہ اہل چشموں کو حکم دیا تھا کہ جو ربذہ میں اپنے جانوروں کو پانی پلانے (چرانے) لائے ان کو روکا نہ جائے۔ لیکن جب حضرت عمر بن خطاب (رض) کا زمانہ آیا او لوگ زیادہ ہوگئے اور حضرت عمر (رض) نے ملک شام، مصر اور عراق کی طرف لشکر بھیجے تو ربذۃ کو حمی (خاص) کرلیا راوی کہتے ہیں اور مجھے وہاں کا عامل نگران مقرر کردیا۔ ابن سعد