hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14089

.

كنز العمال

14089
Kanz al-Ummal
14089- عن الحارث بن الفضيل قال: لما عقد أبو بكر ليزيد بن أبي سفيان فقال: يا يزيد إنك شاب تذكر بخير قد رؤي منك، وذلك شيء خلوت به في نفسك، وقد أردت أن أبلوك واستخرجك من اهلك، فانظر كيف أنت وكيف ولايتك؟ وأخبرك فإن أحسنت زدتك، وإن أسأت عزلتك وقد وليتك عمل خالد بن سعيد، ثم أوصاه بما أوصاه يعمل به في وجهه وقال له: أوصيك بأبي عبيدة بن الجراح خيرا، فقد عرفت مكانه من الإسلام، وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لكل أمة أمين وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح، فاعرف له فضله وسابقته، وانظر معاذ بن جبل فقد عرفت مشاهده مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يأتي إمام العلماء بربوةفلا تقطع امرا دونهما، وإنهما لن يألوا بك خيرا، قال يزيد: يا خليفة رسول الله أوصهما بي كما أوصيتني بهما قال أبو بكر: لن أدع أن أوصيهما بك، فقال يزيد: يرحمك الله وجزاك الله عن الإسلام خيرا. "ابن سعد" وفيه الواقدي
14089 حارث بن فضیل سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) نے یزید بن ابی سفیان (کو گورنر بنانے) کے متعلق حتمی ارادہ فرمالیا تو ان کو فرمایا : اے یزید ! تو جوان آدمی ہے اور تیرا نام خیر کے ساتھ لیا جاتا ہے یقیناً تیرے اندر لوگوں نے اچھی چیزیں دیکھی ہونگی یہ بات تیرے دل میں ہوگی۔ کہ وہ کیا اچھی باتیں ہیں اب میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں تیرا امتحان لوں اور تجھے تیرے گھر والوں سے دور بھیجوں۔ لہٰذا تو دیکھ لے کہ تو یہ ذمہ داری اٹھائے گا ؟ میں تجھے پہلے خبردا کردیتا ہوں کہ اگر تو نے اچھے کام کیے تو میں تمہارے (عہدے میں) اضافہ کردوں گا اور اگر تم نے برائی کا راستہ اختیار کیا تو تم کو معزول کردوں گا۔ پس میں تم کو خالد بن سعید کی جگہ گورنر بناتا ہوں۔
پھر حضرت ابوبکر (رض) نے ان کو ذاتی زندگی سے متعلق نصیحتیں فرمائیں پھر فرمایا : میں تم کو خاص طور پر ابوعبیدۃ (رض) بن الجراح کا خیال رکھنے کو کہتا ہوں ، تم اسلام میں ان کے مرتبے سے اچھی طرح واقف ہوگے ہی اور رسول اللہ نے ان کے متعلق ارشاد فرمایا تھا :
ہر امت کا کوئی امین ہوتا ہے، اس امت کا امین ابوعبیدۃ بن الجراح ہے۔
لہٰذا تم ان کی فضیلت کو اور ان کی مسابقت فی الاسلام کو مدنظر رکھنا۔ اور معاذ بن جبل کا بھی خیال رکھنا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کی رفاقت کو جانتے ہوگے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا :
امام العلماء اپنے فریضے کو زیادہ نبھاتا ہے (اور ان سے بڑا عالم اس علاقے میں کوئی نہیں جہاں تم جارہے ہو) لہٰذا تم دونوں حضرات معاملے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالنا اور وہ بھی تمہارے ساتھ خیر برتنے میں کوئی کمی نہ کریں گے۔
یزید نے عرض کیا : اے خلیفہ رسول اللہ ! جس طرح آپ نے مجھے ان کے متعلق نصیحتیں فرمائی ہیں آپ ان کو بھی میرے متعلق کچھ نصیحت فرمادیں۔
حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں ان کو تمہارے متعلق نصیحت کرنے میں ہرگز کوتاہی نہ کروں گا۔ یزید نے عرض کیا : اللہ آپ پر رحم فرمائے اور آپ کو اسلام کی طرف سے اچھا بدلہ عطا کرے۔
ابن سعد
کلام : روایت کی سند میں انتہائی ضعیف راوی واقدی ہے۔ اس حدیث میں مذکورہ قولی بخاری کتاب المناقب مناقب ابی عبیدہ میں موجود ہے۔