14108- عن أم هانئ بنت أبي طالب أن فاطمة أتت أبا بكر تسأله سهم ذوي القربى، فقال لها أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سهم ذوي القربى لهم في حياتي وليس بعد موتي.
"ابن راهويه" وفيه الكلبي متروك.
14108 ام ہانی بنت ابی طالب (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت ابی طالب (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس ذوی القربیٰ ۔ رشتے داری کا حصہ مانگنے آئیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا : ذوی القربیٰ ۔ میرے رشتہ داروں کا حصہ میری زندگی تک ہے اور میری موت کے بعد نہیں۔ ابن راھویہ
کلام : روایت کی سند میں کلبی متروک (ناقابل اعتبار) راوی ہے۔
فائدہ : فرمان الٰہی ہے۔
واعلمو انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ وللرسول ولذی القربیٰ۔۔۔الخ
اور جان لو ! جو تم غنیمت حاصل کرو بیشک اللہ کے لیے اس کا پانچواں حصہ ہے اور رسول کے لیے اور رسول کے رشتے داروں کے لئے۔ الآیۃ