14109- عن أبي العفيف قال: شهدت أبا بكر الصديق وهو يبايع الناس بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فيجتمع إليه العصابة فيقول لهم: بايعوني على السمع والطاعة لله ولكتابه، ثم للأمير فيقول: نعم فيبايعهم فتعلمت شرطه الذي شرطه على الناس، وأنا يومئذ غلام محتلم أو نحوه فلما خلىمن عنده أتيته، فقلت أبايعك على السمع والطاعة للهولكتابه وللأمير، قال: فصعد فيالنظر وصوبه، فكأني أعجبته، ثم بايعني."الحارث وابن جرير ق".
14109 ابوالعفیف (رح) سے مروی ہے کہ میں حضرت ابوبکر (رض) کے پاس حاضر ہوا ۔ آپ (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ ایک جماعت اکٹھی ہو کر آپ (رض) کے پاس آئی۔ آپ (رض) نے ان کو فرمایا : میری بیعت کرو اللہ اور اس کی کتاب کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر۔ پھر آپ (جماعت کے) امیر کو یہی فرماتے پھر وہ اثبات میں ہاں کرتا تو آپ ان کو بیعت فرمالیتے۔ چنانچہ میں نے وہ شرط جان لی جس پر آپ لوگوں بےبیعت لیتے تھے۔ اس وقت میں ایک نوخیز لڑکا تھا جو بلوغت کے قریب پہنچا تھا۔ چنانچہ جب ایک جماعت آپ کے پاس سے اٹھی تو میں آپ کے پاس پہنچ گیا : میں نے عرض کیا : میں آپ کی بیعت کرتا ہوں اللہ اور اس کی کتاب کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر۔ آپ (رض) نے میری طرف نگاہ اٹھائی اور میری بات کو درست قرار دیا گویا میں نے آپ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا پھر آپ (رض) نے مجھے بیعت فرمالیا۔
الحارث ، ابن جریر، السنن للبیہقی