14111- عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: كتب أبو بكر إلى عمرو ابن العاص سلام عليك أما بعد فقد جاءني كتابك تذكر ما جمعت الروم من الجموع، وأن الله لم ينصرنا مع نبيه صلى الله عليه وسلم بكثرة جنود وقد كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وما معنا إلا فرسان وإن نحن إلا نتعاقب الإبل، وكنا يوم أحد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وما معنا إلا فرس واحد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يركبه ولقد كان يظهرنا ويعيننا على من خالفنا واعلم يا عمرو أن أطوع الناس لله أشدهم بغضا للمعاصي فاطع الله ومر أصحابك بطاعته. "طس" وقال تفرد به الواقدي.
14111 عبداللہ (رض) بن عمرو بن العاص سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عمرو بن العاص (رض) کو لکھا :
تم پر سلام ہو ! مجھے تمہارا مراسلہ ملا، تم نے ان لشکروں کا لکھا تھا جو روم کی فتح میں تمہارے ساتھ مل گئے ہیں۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ساتھ جبکہ ہمارے پاس بڑا لشکر تھا ہماری مدد نہیں فرمائی ۔ جیسا کہ جنگ حنین میں ہوا اور ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے تھے ہمارے پاس صرف دو گھوڑے ہوتے تھے ۔ اور ہم میں سے ہر شخص کو اونٹ کی سواری بھی میسر نہ تھی جس کی وجہ سے ہم اونٹوں کے پیچھے پیچھے چلتے تھے۔ غزوہ احد میں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اور ہمارے پاس صرف ایک گھوڑا تھا جس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوتے تھے۔ ایسی تنگی میں اللہ ہم کو غلبہ عطا فرماتا تھا اور ہمارے مخالفین پر ہماری مدد فرماتا تھا۔ پس اے عمرو ! جان لے اللہ کا سب سے زیادہ اطاعت گزار شخص وہ ہے جو معاصی ہے سب سے زیادہ بیزار ہو۔ پس اللہ کی اطاعت کر اور اپنے ساتھیوں کو بھی اس کی اطاعت کا حکم کرو۔ الاوسط للطبرانی
کلام : واقدی اس روایت میں متفرد ہے اور واقدی ضعیف راوی ہے۔