14118- عن قيس بن أبي حازم قال: خطب أبو بكر الناس فقال: يا أيها الناس إني قد وليتكم ولست بخيركم، فلعلكم أن تكلفوني أن أسير فيكم بسيرة رسول الله صلى الله عليه وسلم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعصم بالوحي، وإنما أنا بشر أصيب وأخطيء فإذا أصبت فاحمدوا الله وإذا أخطأت فقوموني. "أبو ذر الهروي في الجامع".
14118 قیس بن ابی حازم سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے لوگوں کو خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا :
اے لوگو ! مجھے تمہارا حاکم بنادیا گیا ہے حالانکہ میں تمہارا اچھا شخص نہیں ہوں۔ شاید تم مجھے مکلف کرو گے کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کے مطابق چلوں ۔ جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو وحی کی وجہ سے (غلطیوں سے محفوظ و) معصوم تھے۔ جبکہ میں ایک عام بشر ہوں، درست بھی چل سکتا ہوں لغزش بھی کھا سکتا ہوں۔ لہٰذا جب میں درست راہ چلوں تو اللہ کی حمد کرو اور جب مجھ سے خطاء سرزد ہو تو مجھے سیدھی راہ دکھا دو ۔ ابوذر الھروی فی الجامع