14119- عن يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد قال: توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمرو بن العاص بعمان أو البحرين فبلغتهم وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم واجتماع الناس على أبي بكر، فقال له أهل الأرض: من هذا الذي اجتمع الناس عليه ابن صاحبكم؟ قال: لا قالوا: فأخوه؟ قال: لا قالوا: فأقرب الناس إليه؟ قال: لا قالوا: فما شأنه؟ قال: اختاروا خيرهم؟ فأمروه فقالوا: لن يزالوا بخير مافعلوا هذا. "ابن جرير".
14119 یحییٰ بن سعید سے مروی ہے کہ قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو اس وقت عمرو بن العاص عمان یا بحرین میں (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے گورنر مقرر) تھے۔ وہاں لوگوں کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی خبر اور لوگوں کے حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت پر جمع ہونے کی خبر ملی۔ اہل علاقہ نے حضرت عمرو بن العاص سے پوچھا : یہ کون شخص ہے جس پر لوگ متفق ہوگئے ہیں، کیا تمہارے رسول کا بیٹا ہے ؟ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے فرمایا : نہیں، ایسا نہیں ہے۔ لوگوں نے پوچھا : تو کیا وہ ان کا بھائی ہے ؟ فرمایا : نہیں۔ لوگوں نے پوچھا : تب وہ لوگوں میں سب سے زیادہ تمہارے رسول کے قریب تھا ؟ فرمایا : نہیں۔ لوگوں نے پوچھا : پھر وہ کون ہے ؟ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے فرمایا : بس لوگوں نے اپنے درمیان جس کو سب سے اچھا دیکھا اس کو اختیار کرلیا اور امیر بنالیا۔ لوگوں نے کہا : جب تک وہ ایسا کرتے رہیں گے ہمیشہ خیر پر قائم رہیں گے۔ ابن جریر