14144- عن زيد بن علي عن أبيه أن أبا سفيان جاء إلى علي فقال: يا علي بايعوا رجلا أذل قريش قبيلة، والله لئن شئت لنصد عنها عليه أقطارها ولأملأنها عليه خيلا ورجلافقال له علي: يا أبا سفيان إن المؤمنين وإن بعدت ديارهم وأبدانهم قوم نصحة بعضهم لبعض، وإن المنافقين وإن قربت ديارهم وأبدانهم قوم غششة بعضهم لبعض، وإنا قد بايعنا أبا بكر وكان لذلك أهلا. "أبو أحمد الدهقان في حديثه"
14144 زید بن علی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوسفیان حضرت علی (رض) کے پاس حاضر ہوئے اور بولے : اے علی ! لوگوں نے ایک ایسے شخص کی بیعت کرلی ہے جس نے قریش قبیلے کو رسوا و ذلیل کردیا ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر تم کہو تو میں اس شخص پر خلافت کے سارے دروازے بند کردیتا ہوں اور اس کے خلاف گھڑ سوار اور پیادہ لشکروں کو کھڑا کردیتا ہوں۔ حضرت علی (رض) نے ان کو فرمایا : اے ابوسفیان ! مومنین خواہ ان کے وطن اور جسم ایک دوسرے سے دور دور ہوں پھر بھی وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ جبکہ منافقین خواہ ان کے وطن اور جسم قریب قریب ہوں لیکن وہ دھوکا باز قوم ہے جو ایک دوسرے کو بھی دھوکا دینے سے باز نہیں آتی۔ لہٰذا ہم ابوبکر کی بیعت کرچکے ہیں اور وہ حقیقتاً اس خلافت کے اہل ہیں۔ ابواحمد الدھقان فی حدیثہ
فائدہ : ابواحمدحمزۃ بن محمد بن العباس الدھقان ہیں، ثقہ ہیں، مادراء النہر کے باشندے تھے۔ 347 ھ میں وافت پائی۔ تاریخ بغداد 183/8 ۔