hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14168

.

كنز العمال

14168
Kanz al-Ummal
14168- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن يزيد بن أبي سفيان قال أبو بكر: لما بعثني إلى الشام يا يزيد إن لك قرابة عسيت تؤثرهم بالإمارة وذلك أكبر ما أخاف عليك فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من ولي من أمور المسلمين شيئا فأمر عليهم أحدا محاباة له بغير حق فعليه لعنة الله لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا حتى يدخله جهنم ومن أعطى أحدا من مال أخيه محاباة له فعليه لعنة الله أو قال برئت منه ذمة الله إن الله دعا الناس إلى أن يؤمنوا بالله فيكونوا حمى الله، فمن انتهك في حمى الله شيئا بغير حق فعليه لعنة الله أو قال: برئت منه ذمة الله عز وجل. "حم ك ومنصور بن شعبة البغدادي في الأربعين" وقال: حسن المتن غريب الإسناد وقال ابن كثير ليس هذا الحديث في شيء من الكتب الستة وكأنهم أعرضوا عنه لجهالة شيخ بقية قال: والذي يقع في القلب صحة هذا الحديث فإن الصديق كذلك فعل ولى على المسلمين خيرهم بعده.
14168 (مسند صدیق (رض)) حضرت یزید بن ابی سفیان (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے ملک شام (لشکر دے کر) بھیجا تو مجھے ارشاد فرمایا :
اے یزید ! تیرے کچھ رشتے دار (شامل) ہیں۔ ممکن ہے تو ان کو امارت۔ حکومت میں ترجیح دے۔ اور یہی وہ بات ہے جس کا مجھے تجھ پر سب سے زیادہ خوف ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :
جو مسلمانوں کے کاموں کا حاکم بنے پھر وہ ان پر کسی کو ناحق امیر بنائے اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ اللہ پاک اس کا کوئی نہ فرض قبول فرمائیں گے اور نہ نفل۔ حتیٰ کہ اس کو جہنم میں داخل کردیں گے۔ اور جو کسی کو اس کی محبت میں اس کے بھائی کا مال ۔ ناجائز طور پر دے، اس پر بھی اللہ کی لعنت ہے، یا فرمایا : اس سے اللہ کا ذمہ بری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لائیں پس وہ ایمان کی بدولت اللہ کی حمیٰ پناہ میں ہیں۔ پس جس نے اللہ کی حمی میں ناحق ظلم کیا اس پر اللہ کی لعنت ہے یا فرمایا : اس سے اللہ عزوجل کا ذمہ بری ہے۔
مسند احمد، منصور بن شعبہ البغدادی فی الریعین
کلام : روایت کا متن حسن جبکہ اسناد ضعیف ہے۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : یہ حدیث کتب ستہ میں کوئی معیار نہیں رکھتی۔ انھوں نے اس حدیث سے اعراض اس کے شیخ بقیہ کی جہالت کی وجہ سے کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی صحت متن کی بات جو دل میں پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے مسلمانوں کے اوپر ان کے اچھے لوگوں کو ہی امیر بنایا ہے۔ جو اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے۔