14170- عن عروة أن أبا بكر الصديق أمر خالد بن الوليد حين بعثه إلى من ارتد من العرب أن يدعوهم بدعاية الإسلام ويبينهم بالذي لهم فيه وعليهم ويحرص على هداهم فمن أجابه من الناس كلهم أحمرهم وأسودهم كان يقبل ذلك منه بأنه إنما يقاتل من كفر بالله على الإيمان بالله فإذا أجاب المدعو إلى الإسلام وصدق إيمانه لم يكن عليه سبيل وكان الله هو حسيبه، ومن لم يجبه إلى ما دعاه إليه من الإسلام ممن يرجع عنه ان يقتله."ق".
14170 عروۃ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے خالد بن الولید کو مرتدین عرب کی طرف بھیجا تو ان کو فرمایا ان کو اسلام کی طرف بلاؤ اور اس میں ان کے فوائد بتاؤ نہ ماننے کی صورت میں نقصانات سے ڈراؤ۔ کوشش اور لاچ کرو کہ ان کو ہدایت مل جائے۔ پھر جو لوگ تمہاری بات کو قبول کرلیں گورے ہوں یا کلے ہر ایک کے اسلام کو قبول کیا جائے۔ قتال تو صرف ان لوگوں سے ہے جو ایمان لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوگئے۔ چنانچہ پھر بھی اگر کوئی اسلام کو قبول کرلے اور اس کا ایمان سچا ہو تو اس کے ساتھ جنگ کا کوئی جواز نہیں۔ اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ ہاں جو اسلام میں واپس نہ آئیں اور اس میں آکر پھر چکے ہوں ان کو قتل کرو۔ السنن للبیہقی