14171- "مسند الصديق" عن عبد الرحمن بن جبير أن أبا بكر لما وجه الحبشة قام فيهم فحمد الله وأثنى عليه، ثم أمرهم بالمسير إلى الشام وبشرهم بفتح الله إياها حتى تبنوا فيها المساجد فلا نعلم أنكم إنما تأتونها تلهيا، فالشام شبيعة يكثر لكم فيها من الطعام فاياي والأشرأما ورب الكعبة لتأشرن ولتبطرن، وإني موصيكم بعشر كلمات فاحفظوهن: لا تقتلن شيخا فانيا، ولا ضرعاصغيرا، ولا امرأة، ولا تهدموا بيتا، ولا تقطعوا شجرا مثمرا، ولا تعقرن بهيمة إلا لأكل ولا تحرقوا نخلا، ولا تقصر، ولا تجبن، ولا تغلل، وستجدون آخرين محلقة رؤوسهم فاضربوا مقاعد الشيطان منها بالسيوف، والله لأن أقتل رجلا منهم أحب إلي من أن أقتل سبعين من غيرهم ذلك بأن الله قال: {فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لا أَيْمَانَ لَهُمْ} . "كر".
14171 (مسند الصدیق) عبدالرحمن بن جبیر سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) نے اہل حبشہ کو ملک شام کی طرف بھیجا تو ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء کرنے کے بعد ان کو ملک شام کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا اور ملک شام کے فتح ہوجانے کی خوشخبری دی اور فرمایا تم وہاں مساجد بھی تعمیر کرو گے۔ ہمیں معلوم نہیں کہیں تم وہاں جاکر غافل نہ ہوجاؤ۔ کیونکہ ملک شام سرسبز اور فراوانی والی سرزمین ہے۔ وہاں تم کو طعام اور غلے کی کثرت ملے گی۔ وہاں جاکر تم (نعمتوں کی فراوانی میں) اکڑ نہ جانا۔ رب کعبہ کی قسم ! تم وہاں جاکر دھوکے میں پڑو گے اور اتراؤ گے۔ میں تم کو (سختی کے ساتھ) دس باتوں کی تاکید کرتا ہوں ان کو اچھی طرح یاد رکھنا۔ کسی بالکل لاغر بوڑھے کو قتل نہ کرنا، نہ چھوٹے بچے کو قتل کرنا، نہ عورت کو، کسی گھر کو ڈھانا نہیں، پھل دار درخت کو نہ کاٹنا، کسی مویشی کو بلاوجہ ذبح نہ کرنا ہاں مگر کھانے کے لئے، کھجور کے درخت کو نہ چلانا، جنگ میں کوتاہی نہ کرنا، بزدلی نہ دکھانا، مال غنیمت میں دھوکا نہ کرنا اور کچھ لوگ تم کو سر منڈے ملیں گے ان شیطانوں کو سرینوں پر تلوار مار مار کر قتل کردینا۔ اللہ کی قسم ! میں ان میں سے ایک آدمی کو قتل کروں یہ مجھے عام ستر کافروں کے مارنے سے زیادہ پسند ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
فقاتلوا ائمۃ الکفر انھم لا ایمان لھم،
پس کفر برغنوں کو قتل کرو، ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ ابن عساکر