14174- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن قيس بن أبي حازم قال: رأيت عمر وبيده عسيب نخل وهو يجلس الناس يقول: اسمعوا لقول خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء مولى لأبي بكر يقال له: شديد بصحيفة فقرأها على الناس فقال: يقول أبو بكر: اسمعوا وأطيعوا لمن في هذه الصحيفة، فوالله ما آلو بكم، قال قيس: فرأيت عمر بعد ذلك على المنبر. "ش حم وابن جرير واللالكائي في السنة".
14174 (مسند صدیق (رض)) قیس بن ابی حازم (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا ، آپ کے ہاتھ میں کھجور کی شاخ ہے اور آپ لوگوں کو بٹھا رہے ہیں اور فرماتے جارہے ہیں : خلیفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ابوبکر (رض)) کی بات سنو۔ چنانچہ پھر حضرت ابوبکر (رض) کا شدید نامی غلام ایک تحریر لے کر آیا۔ اور وہ تحریر لوگوں کو پڑھ کر سنائی :
ابوبکر کہتا ہے : اس شخص کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو جس کا نام اس کاغذ میں ہے۔ اللہ کی قسم ! میں نے تمہارے ساتھ کسی طرح کی کوتاہی نہیں برتی (وہ نام عمر بن خطاب (رض) کا تھا) ۔
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں : اس کے بعد میں نے عمر کو منبر پر دیکھا۔
مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، ابن حریر، اللالکائی فی السنۃ
فائدہ : حضرت ابوبکر (رض) وفات سے قبل اپنا خلیفہ حضرت عمر (رض) کو منتخب فرما گئے تھے۔ آپ (رض) حضرت عمر (رض) کا نام ایک کاغذ میں لکھ کر دے گئے تھے کہ لوگ یوں بیعت کریں کہ اس کاغذ میں جس کا نام ہے ہم اس کی بیعت کرتے ہیں۔ چنانچہ بیعت کے بعد اس کاغذ کو کو کھول کر دیکھا گیا تو اس میں حضرت عمر (رض) کا نام تھا۔