hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14179

.

كنز العمال

14179
Kanz al-Ummal
14179- عن عثمان بن عبيد الله بن عبد الله بن عمر بن الخطاب قال: لما حضرت أبا بكر الصديق الوفاة دعا عثمان بن عفان فأملى عليه عهده، ثم أغمي على أبي بكر قبل أن يملي أحدا فكتب عثمان عمر بن الخطاب، فأفاق أبو بكر فقال لعثمان كتبت أحدا؟ فقال: ظننتك لما بك وخشيت الفرقة فكتبت عمر بن الخطاب فقال: يرحمك الله، أما لو كتبت نفسك لكنت لها أهلا، فدخل عليه طلحة بن عبيد الله فقال: أنا رسول من ورائي إليك، يقولون: قد علمت غلظة عمر علينا في حياتك، فكيف بعد وفاتك إذا أفضيت إليه أمورنا والله سائلك عنه فانظر ما أنت قائل؟ فقال: أجلسوني، أبالله تخوفوني، قد خاب امرؤ ظن من أمركم وهما، إذا سألني الله قلت: استخلفت على أهلك خيرهم لهم فأبلغهم هذا عني. "اللالكائي".
14179 عثمان بن عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی وفات کا وقت قریب آگیا تو انھوں نے حضرت عثمان (رض) بن عفان کو بلوا کر انھیں عہد نامہ املاء کروایا۔ لیکن عہد نامہ میں کسی کا نام املاء کروانے سے قبل ہی حضرت ابوبکر (رض) پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ حضرت عثمان (رض) نے (از خود) عمر بن خطاب (رض) لکھ دیا۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) کو ہوش آیا تو انھوں نے حضرت عثمان (رض) سے پوچھا : تم نے کسی کا نام لکھ دیا ہے کیا ؟ حضرت عثمان (رض) نے عرض کیا : میں نے آپ کی کیفیت ملاحظہ کی تو مجھے ڈر ہوا کہیں آپ رخصت تو نہیں ہوگئے، یہ سوچ کر میں نے عمر بن خطاب لکھ دیا ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ تم رحم کرے۔ اگر تم اپنا نام ہی لکھ دیتے تو تم بھی اس کے اہل اور مستحق تھے۔ پھر حضرت طلحہ بن عبیداللہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس داخل ہوئے اور عرض کیا : میں اپنے پیچھے والوں کا قاصد ہوں۔ وہ کہتے ہیں : آپ اپنی زندگی میں عمر کی سختی کو ہم پر جانتے ہیں۔ پھر آپ کی وفات کی بعد جبکہ ہمارے سارے امور ان کو سونپ دیئے جائیں گے تب ان کی سخت مزاجی کا کیا حال ہوگا ؟ اور اللہ آپ سے اس کے بارے میں سوال کرے گا، آپ دیکھ لیں، اپنے رب کو کیا جواب دیں گے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : مجھے بٹھاؤ، کیا تم مجھے اللہ کا خوف دلاتے ہو۔ ہلاک ہو وہ شخص جو تمہارے معاملے میں غلط فہمی کا شکار ہو۔ جب اللہ مجھ سے سوال فرمائے گا تو میں عرض کروں گا : میں نے تیرے اہل پر ان کے سب سے اچھے شخص کو خلیفہ بنایا ہے۔ جاؤ لوگوں کو میری طرف سے یہ پیغام دے دو ۔ اللالکائی