hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14181

.

كنز العمال

14181
Kanz al-Ummal
14181- عن الحسن قال: لما ثقل أبو بكر واستبان له في نفسه جمع الناس إليه فقال لهم: إنه قد نزل بي ما قد ترون، ولا أظنني إلا لمماتي وقد أطلق الله تعالى أيمانكم من بيعتي، وحل عنكم عقدي، ورد عليكم أمركم؛ فأمروا عليكم من أحببتم، فإنكم إن أمرتم في حياة مني كان أجدر أن لا تختلفوا بعدي، فقاموا في ذلك وخلوه تخلية، فلم تستقم لهم، فرجعوا إليه فقالوا: رأينا لنا يا خليفة رسول الله رأيك، قال: فلعلكم تختلفون؟ قالوا: لا، فقال: فعليكم عهد الله على الرضا، قالوا: نعم، قال: فأمهلوني أنظر لله ولدينه ولعباده فأرسل أبو بكر إلى عثمان فقال: أشر علي برجل، فوالله إنك عندي لها لأهل وموضع، فقال عمر اكتب فكتب حتى انتهى إلى الإسم فغشي عليه فأفاق فقال: اكتب عمر. "سيف كر".
14181 حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) بھاری بدن ہوگئے اور ان پر اپنا آخری وقت کھل گیا تو انھوں نے لوگوں کو جمع کرکے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کو میری حالت کا علم ہے اور مجھے اب اپنی موت کا گمان ہورہا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے میری بیعت کرنے پر تمہاری قسموں کو بری کردیا ہے، تم سے میرا معاہدہ ختم کردیا ہے اور تمہاری حکومت تم کو واپس کردی ہے۔ اب تم اپنے اوپر جس کو پسند کرو امیر منتخب کرلو۔ کیونکہ اگر تم میری زندی میں اپنا نیا امیر چن لو تو میرے مرنے کے بعد تمہارے اختلافات میں پڑنے کا اندیشہ کم ہے۔
چنانچہ لوگ آپ کو چھوڑ کر اٹھ گئے اور آپ کو اکیلا چھوڑ دیا۔ لیکن ان کی رائے کسی پر جمع نہ ہوسکی۔ چنانچہ وہ واپس آپ کے پاس آئے اور عرض کیا : اے خلیفہ رسول اللہ ! ہمیں آپ کی رائے قبول ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : شاید تم میری رائے سے اختلاف کرو۔ لوگوں نے کہا : نہیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : پھر تم راضی رہنے پر اللہ کو عہد دو ۔ لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : مجھے کچھ مہلت دو ۔ میں اللہ، اس کے دین اور اس کے بندوں کی خیرخواہی میں کسی کو دیکھتا ہوں۔ چنانچہ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے عثمان (رض) کو پیغام بھیج کر بلوایا۔ ان کو فرمایا : مجھے تم کسی آدمی کا بتاؤ۔ اللہ کی قسم ! تم میرے نزدیک اس کے اہل ہو اور مناسب ہو۔ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : عمر۔ آپ (رض) نے فرمایا : عہد نامہ لکھو۔ چنانچہ انھوں نے عہد نامہ لکھنا شروع کیا۔ حتیٰ کہ نام لکھنے کی نوبت آئی تو حضرت ابوبکر (رض) پر غشی کا دورہ پڑگیا۔ پھر آپ بیدار ہوئے تو فرمایا : لکھو : عمر۔ سیف، ابن عساکر