14182- عن أسلم قال: كتب عثمان عهد الخليفة، فأمره أن لا يسمى أحدا وترك اسم الرجل فأغمي على أبي بكر؛ فأخذ عثمان العهد فكتب فيه اسم عمر؛ فأفاق أبو بكر فقال: أرنا العهد، فإذا فيه اسم عمر، فقال: من كتب هذا؟ قال: أنا، قال: رحمك الله وجزاك الله خيرا لو كتبت نفسك لكنت لذلك أهلا. "الحسن بن عرفة في جزئه" قال ابن كثير إسناده صحيح.
14182 حضرت اسلم سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے خلیفہ کا عہد لکھا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کو حکم دیا کہ وہ کسی کا نام نہ لکھیں۔ چنانچہ حضرت عثمان (رض) نے آدمی کا نام چھوڑ دیا۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ حضرت عثمان (رض) نے عہد نامہ میں عمر کا نام لکھ دیا۔ حضرت ابوبکر (رض) کو ہوش آگیا تو انھوں نے فرمایا : ہمیں عہد نامہ دکھاؤ۔ دیکھا تو اس میں عمر کا نام تھا۔ آپ (رض) نے پوچھا : یہ کس نے لکھا ؟ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : میں نے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ تم پر رحم فرمائے اور اللہ تم کو اچھا بدلہ عطا کرے۔ اگر تم اپنا نام لکھ دیتے تو تم بھی یقیناً اس کے اہل تھے۔
الحسن بن عرفۃ فی جزہ
امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں اس کی اسناد صحیح ہے۔