14203- عن عبد الرحمن بن سابط قال: أرسل عمر بن الخطاب إلى سعيد بن عامر الجمحي فقال: إنا مستعملوك على هؤلاء لتسير بهم إلى أرض العدو فتجاهد بهم، فقال: يا عمر لا تفتني فقال عمر: والله لا أدعكم جعلتموها في عنقي، ثم تخليتم عني، إنما أبعثك على قوم لست أفضلهم، ولست أبعثك لتضرب أبشارهمولتنتهك أعراضهم، ولكن تجاهد بهم عدوهم وتقسم بينهم فيئهم. "ابن سعد كر".
14203 عبدالرحمنبن سابط سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے سعید بن عامر الجمحی (رض) کو پیغام بھیجا کہ ہم تجھے ایک لشکر پر امیر مقرر کرتے ہیں تاکہ تم ان کے ساتھ لے کر دشمن کی سرزمین پر جاؤ اور ان کے ساتھ جہاد کرو۔ سعید بن عامر نے عرض کیا : اے عمر ! مجھے آزمائش میں نہ ڈالیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تم کو نہیں چھوڑوں گا۔ تم لوگوں نے میری گردن میں یہ ساری ذمہ داری ڈال دی ہے اور خود ایک طرف ہٹ گئے ہو۔ سنو ! میں تم کو ایسے لوگوں پر امیر بنا کر بھیج رہا ہوں جن سے تم افضل نہیں ہو، نیز میں تم کو اس لیے ان کے ساتھ نہیں بھیج رہا ہوں کہ تم ان کی کھالوں کو ادھیڑو، یا تم ان کی عزتوں سے پردہ اٹھاؤ بلکہ اس لیے بھیج رہا ہوں کہ تم ان کے ساتھ مل کر دشمنوں سے جہاد کرو اور ان کے اموال غنیمت کو ان کے درمیان تقسیم کرو ۔
ابن سعد۔ ابن عساکر