hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14214

.

كنز العمال

14214
Kanz al-Ummal
14214- عن يزيد بن أبي حبيب أن عمر بن الخطاب بعث خالد بن ثابت الفهمي إلى بيت المقدس في جيش وعمر في الجابية فقاتلهم، فأعطوه أن يكون لهم ما أحاط به حصنها على شيء يؤدونه ويكون للمسلمين ما كان خارجا منها، قال خالد: قد بايعناكم على هذا، إن رضي به أمير المؤمنين فكتب إلى عمر يخبره بالذي صنع الله له؛ فكتب إليه أن قف على حالك حتى أقدم إليك، فوقف خالد عن قتالهم وقدم عمر مكانه ففتحوا له بيت المقدس على ما بايعهم عليه خالد بن ثابت قال: فبيت المقدس يسمى فتح عمر بن الخطاب. "أبو عبيد أيضا".
14214 یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت خالد بن ثابت فہمی کو بیت المقدس کسی لشکر کے ساتھ بھیجا جہاں انھوں نے قتال کیا۔ اس وقت حضرت عمر (رض) (ملک شام کے علاقے ) جابیہ میں تھے۔ اہل فلسطین نے حضرت خالد کو یہ پیش کش کی کہ قلعے کے اندر کا علاقہ ہمارے تصرف میں رہنے دیں اور ہم اس کا بدل (جزیہ کی شکل میں) تم کو دیں گے، جبکہ قلعے سے باہر کا علاقہ تمہارا ہوگا۔ حضرت خالد (رض) نے فرمایا : ہم اس بات پر تمہاری بیعت کرتے ہیں (معاہدہ کرتے ہیں) ، بشرطیکہ اس پر امیر المومنین راضی ہوں۔ چنانچہ خالد نے حضرت عمر (رض) کو صورت حال لکھی۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو لکھا کہ تم اپنی اسی حالت پر ٹھہرو میں خود تمہارے پاس چل کر آتا ہوں۔ چنانچہ حضرت خالد قتال سے باز آگئے۔ پھر حضرت عمر (رض) تشریف لائے تو اہل فلسطین نے ان کے لیے بیت المقدس کا دروازہ کھول دیا اسی شرط پر جو وہ خالد سے کرچکے تھے۔ راوی کہتے ہیں چنانچہ یہ فتح حضرت عمر (رض) کی طرف موسوم ہوئی ۔ فتح بیت المقدس علی یدعمر۔ ابوعبید ایضاً