hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14215

.

كنز العمال

14215
Kanz al-Ummal
14215- عن هشام بن عمار قال: سمعت جدي عبد الله بن أبي عبد الله يقول: لما نزل عمر بن الخطاب بالجابية أرسل رجلا من جديلة إلى بيت المقدس فافتتحه صلحا، ثم جاءه عمر ومعه كعب فقال: يا أبا إسحاق أتعرف موضع الصخرة؟ فقال: اذرع من الحائط الذي يلي وادي جهنم كذا وكذا ذراعا، ثم احتفر فإنك تجدها وهي يومئذ مزبلة، فحفروا فظهرت لهم فقال عمر لكعب: أين ترى أن نجعل المسجد أو قال القبلة فقال: اجعلها خلف الصخرة فتجمع قبلتين قبلة موسى وقبلة محمد صلى الله عليه وسلم، فقال: ضاهيت اليهودية فبناها في مقدم المسجد "أبو عبيد أيضا".
14215 ہشام بن عمار سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دادا حضرت عبداللہ بن ابی عبداللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) جابیہ میں اترے تو آپ (رض) نے جدیلہ کے ایک آدمی کو بیت المقدس روانہ فرمادیا پھر بیت المقدس کو آپ (رض) نے صلحاً فتح کرلیا۔ فتح کے بعد (جب حضرت عمر (رض)) بیت المقدس میں تھے آپ (رض) کے پاس حضرت عمرو (رض) حاضر ہوئے ، ان کے ساتھ کعب احبار (رح) بھی تھے۔
حضرت عمر (رض) نے کعب احبار (رح) سے پوچھا : اے ابواسحاق ! کیا تم موضع صخرۃ کو جانتے ہو ؟ کعب (رح) نے فرمایا : وادی جہنم سے متصل دیوار سے اتنے اتنے گز ناپ لیں پھر وہاں کھدائی کروالیں۔ عین اسی مقام پر آپ کو آپ کا مقصود مل جائیں گا۔ جہاں یہود نے اپنے زعم کے مطابق عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کو سولی دی تھی وہاں اس وقت کوڑا کرکٹ تھا۔ چنانچہ لوگوں نے اس جگہ کھدائی کی تو واقعی وہاں صخرۃ چٹان برآمد ہوئی۔ حضرت عمر (رض) نے کعب (رح) سے پوچھا : تیرا کیا خیال ہے ہم مسجد کہاں بنائیں یا یہ پوچھا کہ قبلہ کس طرف ہے جہاں رخ کریں ؟ کعب نے عرض کیا : آپ صخرۃ کے پیچھے جائے نماز بنالیں۔ اس طرح آپ دونوں قبلوں کو جمع کرلیں گے قبلہ موسیٰ کو اور قبلہ محمد کو صلوٰت اللہ علیہما اجمھما۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : یہودیہ کا بیٹا ہے ناں اس لیے ان کی مشابہت کررہا ہے۔ پھر آپ (رض) نے مسجد بیت المقدس کے اگلے سرے میں مسجد (جائے نماز) بنالی۔ ابوعبیدایضاً