14395- عن الأعمش عن عثمان بن قيس عن أبيه عن عدي بن حاتم قال: حدثني كثير بن شهاب في الرجل الذي لطم الرجل، فقالوا: يا رسول الله ولاة يكونون علينا لا نسألك على طاعة من اتقى وأصلح فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اسمعوا وأطيعوا. "ابن منده كر" وقال يقال إن لكثير صحبة ولا يصح روى عنه عدي بن حاتم الطائي ولا أراه محفوظا.
14395 عن الاعمش عن عثمان بن قیش عن ابیہ عن عدی بن حاتم قال : عدی بن حاتم فرماتے ہیں : مجھے کثیر بن شہاب نے ایک آدمی کے بارے میں بیان کیا کہ اس نے دوسرے آدمی کو طمانچہ مارا، چنانچہ لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم پر ایسے امیر جو تقویٰ اختیار کریں اور درست راہ چلیں آئیں تو ان کے بارے میں تو ہم آپ سے کچھ سوال نہیں کرتے (لوگوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
سنتے رہو اور اطاعت کرتے رہو۔ ابن مندہ، ابن عساکر
فائدہ : علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہا جاتا ہے کہ کثیر کو صحبت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شرف حاصل تھا، لیکن یہ درست نہیں ہے نیز یہ کہ ان سے حضرت عدب بن حاتم (رض) نے بھی روایت کی ہے۔ میں اس روایت کو محفوظ الاصل نہیں سمجھتا۔