hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14398

.

كنز العمال

14398
Kanz al-Ummal
14398- عن علي قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية واستعمل عليهم رجلا من الأنصار فأمرهم أن يسمعوا له ويطيعوا، فلما خرجوا وجد عليهم في شيء فقال: أليس قد أمركم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تطيعوني؟ قالوا: بلى قال: اجمعوا حطبا، ثم دعا بنار فأضرمها فيه، ثم قال: عزمت عليكم لتدخلنها فهم القوم أن يدخلوها، فقال لهم شاب منهم: إنما فررتم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من النار فلا تعجلوا حتى نلقى النبي صلى الله عليه وسلم فإن أمركم أن تدخلوها فادخلوا فرجعوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبروه فقال: لو دخلتموها ما خرجتم منها أبدا، وفي لفظ: لو دخلوها لم يزالوا فيها إلى يوم القيامة لا طاعة في معصية الله، إنما الطاعة في المعروف. "ط حم ش خم د ن ع وابن خزيمة وابن منده في غرائب شعبة وابن خزيمة وأبو عوانة حب هق في الدلائل".
14398 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سریہ (لشکر) بھیجا اور اس پر ایک انصاری کو امیر مقرر فرمایا : پھر اہل لشکر کو حکم دیا کہ وہ اپنے امیر کی بات کو سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔
چنانچہ جب لشکر نکلا تو امیر لشکر نے کسی بات میں اہل لشکر پر غصہ کیا اور فرمایا : کیا تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری اطاعت کا حکم نہیں دیا تھا ؟ اہل لش کرنے عرض کیا : کیوں نہیں۔ امیر نے حکم دیا : تم لکڑیاں اکٹھی کرو ۔ پھر آگ منگوائی اور لکڑیوں میں آگ جلوادی پھر اہل لشکر کو مخاطب کرکے حکم دیا کہ میں تم کو سختی کے ساتھ حکم دیتا ہوں کہ ضرور بالضرور اس آگ میں داخل ہوجاؤ۔ چنانچہ اہل لشکر نے آگ میں گھسنے کا ارادہ کرلیا۔ اہل لشکر میں سے ایک جوان آدمی اپنے ساتھیوں کو مخاطب ہو کربولا : تم لوگ آگ سے بچ کر تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھاگ کر آئے ہو۔ لہٰذا تم جلدی نہ کرو جب تک کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات نہ کرلیں۔ پھر اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو یہی حکم دیا تو تم ضرور آگ میں گھس جانا۔
پس اہل لشکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لوٹ کر تشریف لے گئے اور سارے معاملے کی خبر دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس آگ میں داخل ہوجاتے تو پھر کبھی اس سے واپس نہ نکل سکتے۔ اور دوسرا الفاظ یہ ہیں کہ اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک ہمیشہ ہمیشہ اسی میں جلتے رہتے (سنو ! ) اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت تو صرف نیکی کے کاموں میں ہے۔ ابوداؤد ، مسند احمد ، ابن ابی شیبہ، البخاری، مسلم، مسند ابن امام احمد بن حنبل، النسائی ، مسند ابی یعلی، ابن خزیمہ ، ابن منذہ فی غرائب شعبۃ، ابن خزیمہ، ابوعوانۃ، ابن حبان، الدلائل للبیہقی