14409- عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث علقمة بن محرز على بعث أنا فيهم، فلما انتهى إلى رأس غزاتهأو كان ببعض الطريق استأذنته طائفة من الجيش فأذن لهم وأمر عليهم عبد الله بن حذافة بن قيس السهمي فكنت فيمن غزا معه، فلما كنا ببعض الطريق أو قد القوم نارا ليصطلوا أو ليصطنعوا عليه صنيعا لهم، فقال عبد الله وكانت فيه دعابة: أليس لي عليكم السمع والطاعة؟ قالوا: بلى، قال: فما نأمركم بشيء إلا صنعتموه؟ قالوا: نعم، قال: فإني أعزم عليكم إلا تواثبتم في هذه النار، فلما قدمنا ذكرنا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: من أمركم منهم بمعصية فلا تطيعوه. "ش".
14409 حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علقمہ بن محرز کو ایک لشکر پر امیر مقرر کیا۔ میں بھی اس لشکر میں شامل تھا۔ چنانچہ لشکر جب جنگ کے مقام پر پہنچا یا ابھی راستہ میں تھا کہ لشکر میں سے ایک جماعت نے آگے بڑھنے کی اجازت طلب کی۔ امیر نے ان کو اجازت دیدی اور اس چھوٹے لشکر پر عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی کو امیر بنادیا۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : میں بھی ان کے ساتھ ہولیا۔ ہم نے راستے میں ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ لوگوں نے ہاتھ تاپنے کے لیے یا کھانا وغیرہ بنانے کے لے ایک الاؤ بھڑکایا۔ عبداللہ امیر لشکر جو کچھ ہنسی مذاق کا مزاج رکھنے والے تھے نے فرمایا : کیا تم پر میری سعی وطاعت فرض نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں۔ عبداللہ بولے : تو اگر میں تم کو کسی چیز کا حکم دوں تو تم اطاعت کرو گے ؟ لوگوں نے کہا : ضرور۔ عبداللہ بولے : تب میں تم کو سختی سے تاکید کرتا ہوں کہ اس آگ میں کود جاؤ۔
حضرت ابوسعید (رض) فرماتے ہیں : پھر جب ہم واپس ہوئے تو ہم نے اس واقعہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبروذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو بھی نافرمانی کا حکم کرے اس کی اطاعت نہ کرو۔ مصنف ابن ابی شیبہ