14410- عن معر الضبي قال: لما قدم عبد الله بن عامر الشام أتاه من شاء الله أن يأتيه من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم إلا أبا الدرداء فإنه لم يأته فقال: لا أرى أبا الدرداء أتاني فيمن أتى، فلآتينه ولأقضين من حقه فأتاه فسلم عليه وقال له: أتاني أصحابك ولم تأتني فأحببت أن آتيك وأقضي من حقك، فقال له أبو الدرداء: ما كنت قط أصغر في عين الله ولا في عيني منك اليوم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرنا أن نتغير عليكم إذا تغيرتم. " ... "
14410 معرالضبی سے مروی ہے کہ جب عبداللہ بن عامر ملک شام آئے تو جن کے متعلق اللہ نے چاہا صحابہ کرام اور دوسرے حضرات ان سے بغرض ملاقات حاضر ہوئے، مگر حضرت ابوالدرداء (رض) تشریف نہ لائے۔ عبداللہ بن عامر بولے : کیا بات ہے میں ابوالدرداء کو اپنے پاس آنے والوں میں نہیں دیکھ رہا۔ چلو کوئی بات نہیں میں خود ان کے پاس چل کرجاتا ہوں اور ان کا حق ادا کرتا ہوں۔ چنانچہ عبداللہ بن عامر حضرت ابوالدرداء (رض) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سلام کیا۔ پھر بولا : میرے پاس آپ کے ساتھی تو آئے لیکن آپ تشریف نہیں لائے، لہٰذا نے سوچا میں خود ہی چل کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں اور آپ کا حق ادا کروں۔ حضرت ابوالدرداء (رض) نے اس کو فرمایا : تجھ سے بڑھ کر پست انسان اللہ کی نظر میں اور نہ میری نظر میں آج کے دن کوئی نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو حکم فرمایا تھا کہ حکام تمہارے ساتھ بدل جائیں گے تو اس وقت تم بھی اپنا رویہ ان کے ساتھ بدل لینا۔
کلام : یہ روایت کنزالعمال میں حوالہ سے خالی ہے جبکہ امام ہیثمی (رح) نے مجمع الزوائد 229/5 میں مغراء سے اس کو نقل کیا اور فرمایا کہ امام طبرانی (رح) نے اس کو روایت کیا ہے اور اس میں لیث بن ابی سلیم ایک راوی ہے جو مدلس ہے اور اس روایت کے بقیہ راوی ثقہ ہیں۔