14447- عن سعيد بن المسيب أن عمر اختصم إليه مسلم ويهودي فرأى أن الحق لليهودي فقضى له، فقال له اليهودي: والله لقد قضيت لي بالحق فضربه عمر بالدرة ثم قال: وما يدريك؟ قال: إنا نجد أنه ليس قاض يقضي بالحق إلا كان عن يمينه ملك وعن يساره ملك يسددانه ويوفقانه للحق ما دام مع الحق ترك الحق عرجا وتركاه. "مالك وابن عبد الحكم في فتوح مصر"
14447 سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک یہودی اور ایک مسلمان اپنا مشترکہ مقدمہ لے کر آئے۔ حضرت عمر (رض) نے حق کو یہودی کے لیے سمجھا تو اس کے لیے فیصلہ کردیا۔ یہودی نے آپ (رض) کو مخاطب ہو کر کہا : اللہ کی قسم ! آپ نے میرے لیے حق کے ساتھ فیصلہ کیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو درۃ (کوڑا) مارا اور فرمایا : تجھے کیا علم (کہ میں نے حق کے ساتھ فیصلہ کیا ہے) یہودی نے کہا : ہم توراۃ میں پاتے ہیں کہ کوئی قاضی حق کے ساتھ فیصلہ نہیں کرسکتا مگر جبکہ اس کے دائیں طرف ایک فرشتہ ہو اور بائیں طرف ایک فرشتہ، جو اس کو درست راہ دکھاتے رہیں اور حق کی توفیق دیتے رہیں جب تک کہ وہ حق کے ساتھ ہو۔ جب وہ حق کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ دونوں فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں اور اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ موطا امام مالک، ابن عبدالحکم ، فی فتوح مصر