hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 14448

.

كنز العمال

14448
Kanz al-Ummal
14448- عن محارب بن دثار أن عمر قال لرجل: من أنت؟ قال: أنا قاضي دمشق قال: وكيف تقضي؟ قال: أقضي بكتاب الله، قال: فإذا جاء ما ليس في كتاب الله قال: أقضي بسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فإذا جاء ما ليس في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أجتهد برأي وأؤامر جلسائي فقال له عمر: أحسنت، وقال له: إذا جلست فقل: اللهم إني أسألك أن أقضي بعلم وأن أفتي بحكم وأسألك العدل في الغضب والرضى، قال: فسار ما شاء الله أن يسير، ثم رجع إلى عمر فقال: أريت فيما يرى النائم أن الشمس والقمر يقتتلان مع كل واحد منهما جنود من الكواكب قال: مع أيهما كنت؟ قال: مع القمر، قال عمر: نعوذ بالله وجعلنا الليل والنهار آيتين فمحونا آية الليل وجعلنا آية النهار مبصرة، والله لا تلي عملا ابدا، قال: فيزعمون أن ذلك الرجل قتل مع معاوية. "ابن أبي الدنيا عب".
14448 محارب بن دثار سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک شخص سے پوچھا : من انت ؟ تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں دمش کا قاضی ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تو کیسے فیصلہ کرتا ہے ؟ اس نے عرض کیا کتاب اللہ کے ساتھ۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اگر ایسا مسئلہ آجائے جو کتاب اللہ میں نہ ہو ؟ عرض کیا : سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔ فرمایا : اگر ایسا مسئلہ آجائے جو کتاب اللہ میں اور نہ سنت رسول اللہ میں ہو تب ؟ عرض کیا : پھر میں اپنی رائے میں اجتہاد کرتا ہوں اور اپنے (اہل علم) ہم نشینوں سے مشاورت کرتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو فرمایا : بہت اچھا۔
نیز فرمایا : جب تو فیصلے کے لیے بیٹھا کرے تو یہ دعا پڑھ لیا کر :
اللھم انی اسالک ان اقضی بعلم وان افتی بحکم واسالک العدل فی الرضی والغضب۔
اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ علم کے ساتھ فیصلہ کروں، (تیرے) حکم کے ساتھ فتویٰ دوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں رضا اور غضب میں عدل و انصاف برتنے کا۔ راوی محارب بن دثار کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی رخصت ہو کر تھوڑی دور گیا تھا کہ واپس آیا اور حضرت عمر (رض) سے عرض کیا : میں نے خواب دیکھا ہے کہ سورج اور چاند ایک دوسرے کے ساتھ قتال (جنگ) کررہے ہیں اور ہر ایک کے ساتھ ستاروں کی فوج ہے۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے پوچھا تو کس کے ساتھ تھا ؟ اس نے کہا : چاند کے ساتھ۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نعوذ باللہ ! اللہ تیری پناہ ہو۔ اللہ کا فرمان ہے :
وجعلنا اللیل والنھار آیتین فمحونا آیۃ اللیل وجعلنا آیۃ النھار مبصرۃ۔
اور ہم نے رات اور دن دونشانیاں بنائی ہیں، پس ہم رات کی نشانی مٹا دیتے ہیں اور دن کی نشانی کو دکھانے والا بنادیتے ہیں۔
پھر حضرت عمر (رض) نے اس آدمی کو فرمایا : اللہ کی قسم ! آئندہ تم کبھی کسی منصب پر فائز نہیں رہ سکتے۔ چنانچہ اس کو معزول کردیا لوگوں کا گمان ہے کہ بعد میں وہ شخص حضرت علی (رض) کے خلاف جنگ میں حضرت معاویہ (رض) کے ساتھ مارا گیا۔ ابن ابی الدنیا، مصنف عبدالرزاق