1457 - عن أوس بن أوس الثقفي قال "دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن في قبة في مسجد فأتاه رجل فساره بشيء لا ندري ما يقول فقال اذهب قل لهم يقتلوه ثم دعاه فقال لعله يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله فقال نعم فقال اذهب فقل لهم يرسلوه فإني أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأني رسول الله فإذا قالوها حرمت علي دماؤهم وأموالهم إلا بحقها وكان حسابهم على الله". (ط حم والدارمي والطحاوي) .
١٤٥٧۔۔ اوس بن اثقفی سے مروی ہے کہ رسول اکرم ہمارے پاس تشریف لائے ہم مسجد کے ایک قبہ میں بیٹھے ہوئے تھے پھر آپ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا آپ کے ساتھ اس نے کچھ سرگوشی کی ہمیں نہیں معلوم کہ کیا بات ہوئی، پھر آپ نے فرمایا جاؤ، اور ان کو کہو کہ اسے تہ تیغ کر ڈالیں، لیکن آپ نے اس کو پھر واپس بلالیا، اور کہا شاید وہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیتاہو اس شخص نے عرض کیا جی ہاں تب آپ نے فرمایا تو ان کو کہیں کہ اسے چھوڑ دیں۔ کیونکہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ لاالہ الا اللہ نہیں کہہ لیتے ، پس جب وہ یہ کہہ لیں تو ان کا خون اور ان کا مال محترم ہوجائے گا الایہ کہ اسی کا کوئی حق اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ ابوداؤد، مسنداحمد، الدارمی، الطحاوی۔