1458 - عن عبد الله بن عدي الأنصاري "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو جالس بين ظهراني الناس جاءه رجل يستأذنه أن يساره في قتل رجل من المنافقين فجهر رسول الله صلى الله عليه وسلم بكلامه فقال أليس يشهد أن لا إله إلا الله قال بلى ولا شهادة له قال أليس يشهد أني رسول الله قال بلى ولا شهادة له قال أليس يصلي قال بلى ولا صلاة له قال أولئك الذين نهيت عنهم". (عب والحسن بن سفيان) .
١٤٥٨۔۔ عبداللہ بن عدی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اکرم لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص آی اور آپ کے ساتھ سرگوشی کی حالت میں ایک منافق کی گردن اڑ آنے کی اجازت کا خواہش مند ہوا آپ نے ببانگ بلند فرمایا کیا وہ لاالہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتا، عرض کیا شہادت تو دیتا ہے لیکن اس کی شہادت کا کیا اعتبار ؟ پھر آپ نے دریافت کیا کیا وہ میرے رسول اللہ ہونے کی شہادت نہیں دیتا، عرض کیا شہادت تو دیتا ہے لیکن اس کی شہادت کا اعتبار نہیں، پھر آپ نے دریافت کیا کیا وہ نماز ادا کرتا ہے عرض کیا کیوں نہیں لیکن اس کی نماز ؟ تب آپ نے فرمایا، انہی لوگوں کے متعلق قتال سے ممانعت کی گئی ہے۔ المصنف لعبدالرزاق، الحسن بن سفیان۔