1459 - (ومن مسند من لم يسم) عن النعمان بن سالم عن رجل قال: "دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، ونحن في قبة المسجد، فأخذ بعمود القبة فجعل يحدثنا إذ جاءه رجل فساره ما أدري ما ساره فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اذهبوا به فاقتلوه فلما قفى الرجل دعاه فقال: لعله يقول لا إله إلا الله قال: أجل قال النبي صلى الله عليه وسلم: اذهب فقل لهم يرسلوه فإنه أوحى إلي أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله فإذا قالوا لا إله إلا الله حرمت علي دماؤهم وأموالهم إلا بالحق وكان حسابهم على الله". (عب) .
١٤٥٩۔۔ ازمسند نامعلوم شخص ۔ نعمان بن سالم کسی صاحب رسول سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم مسجد کے قبہ میں بیٹھے ہوئے تھے آپ قبہ کے ایک ستون کو تھام کر ہمیں کچھ بیان فرمانے لگے۔۔ اچانک ایک شخص آپ کے پاس آی اور آپ کے ساتھ اس نے سرگوشی کی مجھے نہیں معلوم کہ کیا بات ہوئی پھر آپ نے فرمایا جاؤ اس کو لے جاؤ اور قتل کردو۔۔ جب وہ شخص پشت دے کر چل دیاتو آپ نے اس کو دوبارہ بلایا اور کہا شاید وہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیتاہو اس نے عرض کیا جی ہاں تب آپ نے فرمایا تو ان کو کہیں کہ اسے چھوڑ دیں، کیونکہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ لاالہ الا اللہ نہیں کہ لیتے پس جب وہ یہ کہہ لیں تو ان کا خون اور ان کا مال محترم ہوجائے گا الایہ کہ اسی کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ المصنف لعبدالرزاق۔