hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 1466

.

كنز العمال

1466
Kanz al-Ummal
.1466 - (ومن مسند عمر) رضي الله عنه عن عبد الرحمن القاري قال:"قدم على عمر بن الخطاب رجلا من قبل أبي موسى فسأله عن الناس فأخبره ثم قال: هل كان فيكم من مغربة خبر؟، فقال: نعم رجل كفر بعد إسلامه قال: فما فعلتم به قال قربناه (2) فضربنا عنقه قال عمر: فهل حبستموه ثلاثا وأطعمتموه كل يوم رغيفا واستتبتموه لعله يتوب ويراجع أمر الله؟ اللهم إني لم أحضر ولم آمر ولم أرض إذ بلغني" (مالك والشافعي عب وأبو عبيد في الغريب ق) .
١٤٦٦۔۔ ازمسند عمر (رض)، عبدالرحمن القاری فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابوموسی کی طرف سے حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت عمر نے اس سے لوگوں کے حالات کے متعلق خیریت دریافت کی تو اس نے خبر دی۔ پھر حضرت عمر نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے درمیان کوئی نیاحادثہ رونما ہوا ہے اس نے عرض کیا جی ہاں ! ایک شخص اسلام میں داخل ہونے کے بعد کفر کا مرتکب ہوگیا ہے حضرت عمر نے فرمایا تم لوگوں نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ عرض کیا ہم نے اسے جاکر قتل کردیا ہے۔ حضرت عمر نے دریافت کیا کہ کیا تم نے اس کو تین یوم کی مہلت کی غرض سے محبوس رکھا تھا ؟ اور ہر دن اس کو عمدہ کھانا مثلا چپاتی وغیرہ کھلائی تھی پھر اس کے تم نے اس سے توبہ طلب کی تھی ؟ شاید وہ تائب ہوجاتا اور اللہ کے امر دین میں واپس آجاتا۔۔ اے اللہ میں اس موقع پر حاضر تھا اور نہ میں نے اس کا حکم دیا تھا اور بات مجھ تک پہنچی تو میں اس پر راضی بھی نہیں تھا۔ مالک الشافعی، المصنف لعبدالرزاق، الغریب لابی عبید۔ بخاری و مسلم۔
مرتد وہ شخص ہے جو اسلام کے دائرہ سے نکل کر کفر کے ظلمت کدہ میں چلا جائے احناف کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اس پر اسلام کی دعوت دوبارہ پیش کی جائے اور اس کے اشکالات جن کی وجہ سے وہ اسلام سے منحرف ہوا ہے کو دور کیا جائے اگرچہ یہ واجب نہیں ہے کیونکہ اس کو اسلام کی دعوت پہلے پہنچ چکی ہے۔ لیکن مستحب ضرور ہے اور یہ بھی مستحب ہے کہ اس کو تین یوم کے لیے قید کردیا جائے تاکہ اس کو کچھ مہلت مل جائے اور بعض اہل علم کے نزدیک مہلت مرتد کی طلب پر منحصر ہے ورنہ مہلت کی ضرورت نہیں ۔ جبکہ امام شافعی (رح) کے نزدیک مہلت دینا واجب ہے انجام کار اگر وہ راہ راست پر آجائے تو یہی اسلام کا مطلوب ہے ورنہ اس کو قتل کردیا جائے۔
مرتد عورت کا حکم ! اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو اس کو قتل نہ کیا جائے بلکہ جب تک وہ مسلمان نہ ہوجائے اس کو قید میں ڈالے رکھاجائے اور ہر تیسرے دن اس کو بطور تنبیہ مارا جائے تاکہ وہ اپنے ارتداد سے توبہ کرکے دائرہ اسلام میں آجائے لیکن اگر کوئی شخص کسی مرتد عورت کو قتل کردے توقاتل پر کچھ واجب نہیں ہوگا۔