1476 - عن أبي الطفيل قال: "كنت في الجيش الذي بعثهم علي بن أبي طالب إلى بني ناجية فانتهينا إليهم فوجدناهم على ثلاث فرق فقال الأمير: لفرقة منهم ما أنتم؟ قالوا نحن قوم كنا نصارى فأسلمنا فثبتنا على إسلامنا وقال للثانية: ما أنتم؟ قالوا نحن قوم كنا نصارى فثبتنا على نصرانيتنا، وقال للثالثة ما أنتم؟ قالوا نحن قوم كنا نصارى فأسلمنا فرجعنا على نصرانيتنا فلم نرى دينا أفضل من ديننا فقال لهم: أسلموا فأبوا فقال: لأصحابه إذا مسحت رأسي ثلاث مرات فشدوا عليهم ففعلوا فقتلوا المقاتلة وسبوا الذرية فجيء بالذراري إلى علي وجاء مسقلة بن هبيرة فاشتراهم بمأتي ألف فجاء بمائة ألف إلى علي فأبى علي أن يقبل فانطلق مسقلة بدراهمه وعمد مسقلة إليهم فأعتقهم ولحق بمعاوية فقيل لعلي ألا تأخذ الذرية فقال: لا فلم يعرض لهم". (ق) .
١٤٧٦۔۔ ابوالطفیل سے مروی ہے کہ میں اس لشکر میں شامل تھا جس کو حضرت علی نے بنی ناجیہ کی طرف بھیجا تھا ، ہم وہاں پہنچے ہم نے ان کو تین گروہوں میں بٹا ہوا پایا۔ امیر لش کرنے ان میں سے ایک گروہ سے پوچھا تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا ہم پہلے نصاری تھے، پھر ہم نے اسلام قبول کرلیا، اور اب اسی پر ثابت قدم ہیں۔ دوسرے گروہ سے پوچھا تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا ہم پہلے نصاری تھے پھر ہم نے اسلام قبول کرلیا اور اب اسی پر ثابت قدم ہیں۔ دوسرے گروہ سے پوچھا تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا ہم پہلے بھی نصاری تھے اور اب تک اسی پر ثابت قدم ہیں۔ تیسرے گروہ سے پوچھا تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا ہم پہلے نصاری تھے پھر ہم نے اسلام قبول کرلیا لیکن پھر اپنے سابق مذہب نصرانیت کی طرف لوٹ گئے کیونکہ ہم نے اس سے بہتر دین اور کوئی نہیں پایا۔ امیرلشکر نے اس تیسرے گروہ سے فرمایا تم اسلام لے آؤ لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ امیرلشکر نے فرمایا جب میں اپنے سر پر تین مرتبہ ہاتھ پھیروں تو تم ان پر ہلہ بول دینا انھوں نے حکم کی تعمیل کی اور مرتدین کے جنگجوؤں کو تہ تیغ کردیا اور ان کی آل واولاد کو قید کردیا۔ یہ قیدی حضرت علی کی خدمت میں پیش ہوئے پھر مستقلہ بن ہبیرہ آیا اور اس نے ان تمام قیدیوں کو دولاکھ دراہم میں خرید لیا، پھر صرف ایک لاکھ پیش کیے۔ حضرت علی وصول فرمانے سے انکار کردیا۔ مستقلہ نے اپنے دراہم لیے اور ان قیدیوں کو آزاد کرکے حضرت معاویہ سے جاملا۔ حضرت علی سے کسی نے کہا آپ وہ دراہم وصول فرمائیں لیکن آپ نے فرمایا رہنے دو ۔ اور آپ نے انسے کچھ تعرض نہ کیا۔ بخاری و مسلم۔