1536 - (ومن مسند الصديق رضي الله عنه) عن طلحة بن عبد الله بن الرحمن بن أبي بكر الصديق عن أبيه قال سمعت أبي يذكر أن أباه سمع أبا بكر الصديق يقول قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا رسول الله العمل على ما فرغ منه أم على أمر مؤتنف؟ قال: بل على أمر قد فرغ منه. قال: ففيم العمل يا رسول الله؟ قال: كل ميسر لما خلق له". (حم طب وأبو زكريا بن مندة في جزء من روى عن النبي صلى الله عليه وسلم هو وولده وولد ولده) .
١٥٣٦۔۔ ازمسند صدیق (رض)۔ طلحہ (رح) بن عبداللہ (رح) بن عبدالرحمن (رض) ابی بکر (رض) سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد عبداللہ سے سنا، وہ بھی فرما رہے تھے کہ ان کے والد عبدالرحمن نے اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم سے عرض کیا، یارسول اللہ عمل کے بارے میں فیصلہ کیا جاچکا ہے ؟ یا عمل از سرنو انجام پاتا ہے فرمایا نہیں بلکہ عمل کے متعلق فیصلہ سے فراغت ہوگئی ہے عرض کیا پھر عمل کرنے کا فائدہ ؟ فرمایا ہر انسان کو اسی عمل کی توفیق ہوتی ہے ، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ مسنداحمد، الکبیر للطبرانی، ابوزکریا بن مندہ فی جزء من روی عن النبی ھو وولدہ وولد ولدہ۔