1537 - عن ابن عمر قال جاء رجل إلى أبي بكر قال: "أرأيت الزنا بقدر؟ قال: نعم. قال: الله قدره ثم يعذبني به؟ قال: نعم يا ابن اللخناء. أما والله لو كان عندي إنسان لأمرته أن يجأ أنفك". (ابن شاهين واللالكائي معا في السنة) .
١٥٣٧۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ زناء کا تعلق بھی تقدیر سے ہے ؟ فرمایا بالکل۔ وہ شخص کہنے لگا کہ تو اللہ نے اس کو مقدر میں لکھا پھر اس کی وجہ سے مجھے عذاب بھی کرتا ہے ؟ فرمایا بالکل ، اے غیرمختون عورت کے بیٹے ! اگر میرے پاس ابھ کوئی شخص ہوتا تو میں اس کو حکم کرتا کہ وہ تیری ناک کاٹ دیتا۔ ابن شاھین والالکانی معافی السنہ۔ عرب عورتوں میں ختنہ کاروان تھا وہ پردہ بکارت سے اوپر ایک جھلی کو کٹوا دیتی تھیں اور غیرمختون عورت کے بیٹے ! بسا اوقات ان کے ہاں برابھلا کہتے وقت استعمال کرتے تھے۔