1544 - عن عمر قال قال رجل من مزينة أو جهينة " يا رسول الله فيم نعمل أفي شيء قد خلا ومضى أو شيء يستأنف الآن قال في شيء قد خلا ومضى فقال الرجل أو بعض القوم ففيم العمل قال إن أهل الجنة ميسرون لعمل أهل الجنة وإن أهل النار ميسرون لعمل أهل النار". (حم د والشاشي ص) .
١٥٤٤۔۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ مزینینہ یاجہینہ کے ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ ہم کسی بنا پر عمل کرتے ہیں کیا عمل اس وجہ سے کرتے ہیں کہ اس کے متعلق فیصلہ ہوگیا اور وہ گزر گیا کہ انسان اس کو ضرور انجام دے گا ؟ یا عمل از سرنو ہوتا ہے کہ پہلے کوئی فیصلہ نہیں ہوا بلکہ انسان کی مرضی پر منحصر ہے کہ کرے یا نہ کرے ؟ آپ نے فرمایا اسی کے مطابق ہوتا ہے جو اس کے متعلق حکم صادر ہوچکا اور گزر گیا، تو اسی شخص نے یا قوم کے کسی اور فرد نے عرض کیا، یارسول اللہ پھر عمل کا کیا فائدہ۔ فرمایا اہل جنت کو اہل جنت ہی کے عمل میں لگایاجاتا ہے۔ اور اہل جہنم کو اہل جہنم ہی کے عمل میں لگایاجاتا ہے۔ مسنداحمد، السنن لابی داؤد، الشاشی، السنن لسعید۔