hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 1545

.

كنز العمال

1545
Kanz al-Ummal
1545 - عن عمر قال: " قلت يا رسول الله أرأيت ما نعمل فيه أمر مبتدع أو مبتدأ أو ما قد فرغ منه؟، قال فيما قد فرغ منه، قلنا: أفلا نتكل؟ قال فاعمل يا ابن الخطاب فكل ميسر لما خلق له ومنكان من أهل السعادة فإنه يعمل بالسعادة أو للسعادة وأما من كان من أهل الشقاوة فإنه يعمل بالشقاء أو للشقاوة". (ط حم ورواه مسدد إلى قوله وقد فرغ منه وزاد قلت ففيم العمل قال لا ينال إلا بالعمل قلت إذا نجتهد والشاشي قط في الأفراد وعثمان بن سعيد الدارمي في الرد على الجهمية ص خ في خلق أفعال العباد - ابن جرير وحسين في الاستقامة) .
١٥٤٥۔۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کا کیا خیال ہے ہم جو عمل کرتے ہیں یہ از سرنو ہوتا ہے یا اس سے فراغت ہوگئی ہے فرمایا اس کے بارے میں پہلے فیصلہ ہوچکا ہے ؟ حضرت عمر نے عرض کیا تو کیوں نہ پھر ہم توکل کرکے بیٹھ جائیں ؟ فرمایا ابن خطاب عمل کرتا رہ ۔ ہر شخص کو اسی کی توفیق ملتی ہے جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ جو اہل سعادت سے ہے وہ سعادت ہی کا عمل کرتا ہے۔ اور جو اہل شقاوت سے ہے وہ شقاوت ہی کا عمل کرتا ہے۔ ابوداؤد الطیالسی ، مسنداحمد۔ مسدد نے اس روایت کو یہاں تک روایت کیا ہے، وقد فرغ منہ ، یعنی اس کے بارے میں پہلے فیصلہ ہوچکا ہے اور مزید یہ اضافہ بھی ہے۔ قلت ففیم العمل، ؟ قال لاینال الابالعمل قلت اذا نجتھد۔ یعنی حضرت عمرنے عرض کیا پھر عمل کا کیا فائدہ ؟ فرمایا وہنوشتہ تقدیر کا فیصلہ بھی عمل کے بغیر حاصل نہیں کرسکتا۔ عرض کیا تب تو ہم خوب سعی و محنت کریں گے۔ الشاشی ، قط فی الافراد الرد علی اجھمیہ ، لعثمان بن سعید الدارمی ، السنن لسعید، افعال العباد اللبخاری ابن جریر، الاستقامہ لجسین ۔