1589 - ومن مسند ابن عباس عن ابن عباس قال "خرج النبي صلى الله عليه وسلم فسمع أناسا من أصحابه يذكرون القدر فقال: إنكم قد أخذتم في شعبتين بعيدتي الغور فيهما هلك أهل الكتاب من قبلكم ولقد أخرج يوما كتابا فقال وهو يقرأ هذا كتاب من الرحمن الرحيم فيه تسمية أهل النار بأسمائهم وأسماء آبائهم وقبائلهم وعشائر مجمل على آخره لا ينقص منهم، فريق في الجنة وفريق في السعير ثم أخرج كتابا آخر فقرأه عليه كتاب من الرحمن الرحيم فيه تسمية أهل الجنة بأسمائهم وأسماء آبائهم وقبائلهم وعشائرهم مجمل على آخرهم لا ينقص منهم أحد فريق في الجنة وفريق في السعير". (ابن جرير) .
١٥٨٩۔۔ ازمسند ابن عباس (رض)۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ باہر تشریف لائے توچنداصحاب کو تقدیر کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا تم دوجانبوں میں بٹ گئے ہو اور ہر ایک اپنی جانب کی گہرائی میں اتر گیا ہے اسی میں تو تم سے قبل اہل کتاب تبا ہ ہوئے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کسی دن آپ نے ایک کتاب نکالی اور اس کو پڑھتے ہوئے فرمایا یہ کتاب رحمن ورحیم کی ہے اس میں اہل جہنم کے نام ان کی آباء و اجداد اور خاندان و قبائل کے ناموں سمیت درج ہیں اسی پر ان کو جمع کیا جائے گا، ان میں کوئی کمی مقصود نہیں ایک فریق جنت میں اور دوسرا جہنم میں ہے پھر آپ نے ایک اور کتاب نکالی اور فرمایا یہ رحمن ورحیم کی ہے اس میں اہل جنت کے نام ان کی آباء و اجداد اور خاندان و قبائل کے ناموں سمیت درج ہیں۔ اسی پر ان کو جمع کیا جائے گا، ان میں کسی فرد واحد کی کمی بھی متصور نہیں ایک فریق تو جنت میں اور دوسرا جہنم میں ہے۔ ابن جریر۔