1590 - عن ابن عباس قال: أردفني رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فأخلف يده وراء ظهره فقال: "يا غلام ألا أعلمك كلمات احفظ الله يحفظك احفظ الله تجده أمامك جفت الأقلام ورفعت الصحف، فإذا سألت فاسأل الله وإذا استعنت فاستعن بالله والذي نفس محمد بيده لوجهدت الأمة على أن يضروك بشيء لم يضروك إلا بشيء قد كتبه الله عليك ولو أرادت أن تنفعك بشيء لم تنفعك إلا بشيء قد كتبه الله لك". (د) .
١٥٩٠۔۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ آپ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن حضور نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا، پھر اپنا دست مبارک اپنی پشت کے پیچھے لاکر مجھے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا اے لڑکے ! کیا میں تجھے ایسی باتیں نہ بتاؤں کہ اگر تو ان کی حفاظت رکھے تو اللہ تیری حفاظت رکھے ؟ اللہ کے حق کی رعایت کر، تو تو اس کو ہر کٹھن وقت میں اپنے سامنے پائے گا اقلام خشک ہوچکے ہیں اور صحائف اٹھ چکے ہیں پس جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کرے۔ اور جب تو مدد کا محتاج ہو تو اللہ ہی سے مدد کا طلب گار ہو، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر ساری امت اس امر پر متفق ہوجائے کہ تجھے کسی چیز کا ضرر پہنچائے تو ہرگز وہ تجھ کو کوئی ضرر نہیں پہنچاسکتی مگر اسی چیز کا جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دی ہے اور اگر ساری امت تجھے نفع رسانی کا ارادہ کرے تو ہرگز تجھ کو کوئی نفع نہیں پہنچاسکتی مگر اسی چیز کا جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دی ہے۔ السنن لابی داؤد۔