1661 - ومن مسند أنس بن مالك عن يوسف بن عطية ثنا قتادة ومطر الوراق وعبد الله الداناج عن أنس " أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج من باب البيت وهو يريد باب الحجرة، سمع قوما يتراجعون بينهم في القرآن، ألم يقل الله في آية كذا وكذا ألم يقل الله في آية كذا وكذا قال: ففتح رسول الله صلى الله عليه وسلم باب الحجرة وكأنما فقئ على وجهه حب الرمان فقال أبهذا أمرتم أبهذا عنيتم إنما هلك الذين من قبلكم بأشباه هذا ضربوا كتاب الله بعضه ببعض أمركم الله بأمر فاتبعوه، ونهاكم عن شيء فانتهوا"، قال: فلم يسمع الناس بعد ذلك أحدا يتكلم في القدر حتى كان ليالي الحجاج بن يوسف، فأول من تكلم فيه. معبد الجهني فأخذه الحجاج بن يوسف فقتله وفي لفظ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج من بيته، وسمع قوما يتذاكرون القدر على باب حجرة له، فخرج إليهم فكأنما فقئ على وجهه حب الرمان قال: ألهذا خلقتم أو لهذا عنيتم إنما هلك من كان قبلكم بهذا وأشباه هذا، انظروا ما أمرتم به فاتبعوه وما نهيتم عنه فانتهوا". (قط في الأفراد والشيرازي في الألقاب كر) .
١٦٦١۔۔ ازمسند انس بن مالک۔ یوسف بن عطیہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں ہمیں قتادہ (رح) ، مطر الورق (رح) اور عبداللہ الدناج ، نے بیان کیا کہ حضرت انس سے مروی ہے کہ حضور گھر کے دروازہ سے ہجرہ شریف میں جانے کے لیے نکلے تو ایک قوم کو دیکھا کہ قرآن کے بارے میں بحث و مباحثہ کررہے ہیں کیا اللہ نے اس اس آیت میں یوں نہیں فرمایا ؟ کیا اللہ نے اس اس آیت میں یوں نہیں فرمایا ؟ رسول اللہ نے حجرہ کا داروہ اس غصہ کے عالم میں کھولا کہ گویا آپ کے رخ زیبا پر کسی نے انار کے دانے نچوڑ دیے ہوں پھر فرمایا کیا اسی کو تم کو حکم ملا ہے ؟ کیا یہی تمہارا مقصود مراد ہے۔ اسی طرح تو تم سے پہلے لوگ قعر ہلاکت میں پڑے۔ کہ انھوں کتاب اللہ کے بعض حصوں کو بعض حصوں کے ساتھ ٹکرانا شروع کردیا تھا تم کو اللہ نے جس بات کا حکم فرمایا ، اس کی پیروی کرلو۔ اور جس بات سے منع فرمایا ہے اس سے باز آجاؤ۔
راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد انھوں نے کسی کو بھی تقدیر کے متعلق بحث کرتے نہیں دیکھا، حتی کہ حجاج بن یوسف کا زمانہ آیاتوسب سے پہلے معبد الجھنی نے اس میں کلام شروع کیا توحجاج بن یوسف نے اس کو پکڑوا کرتہ تیغ کردیا۔ اسی روایت کے دوسرے الفاظ یہ ہیں حضور اپنے گھر سے نکلے تو ایک قوم کوسنا کہ تقدیر کے بارے مذاکرہ کررہے ہیں تو آپ ان کے پاس اس حال میں تشریف لے گئے گویا آپ کے رخ زیبا پر کسی نے انار کے دانے نچوڑ دیے ہوں، پھر فرمایا کیا اسی لیے تم پیدا کیے گئے ہو کیا یہی تم سے مقصود و مطلوب ہے ؟ اسی طرح کی باتوں کی وجہ سے تو تم سے پہلے لوگ قعرہلاکت میں پڑے۔ دیکھو تم کو اللہ نے جس بات کا حکم فرمایا اس کی پیروی کرلو۔ اور جس بات سے منع فرمایا ہے اس سے باز آجاؤ بس۔ الدارقطنی ، فی الافراد، الشیرازی فی الالقاب، ابن عساکر۔