1715 - ومن مسند من لم يسم عن الزهري: "أن يحيى رجلا من الأنصار من بني حارثة أخبره أن ناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، أتوا رسول الله فقالوا لرسول الله: أرأيت شيئا نجدها في صدورنا من وسوسة الشيطان، لأن يقع أحدنا من الثريا أحب إليه من أن يتكلم بها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أقد وجدتم ذلك؟ قالوا: نعم. قال: ذلك صريح الأيمان. إن الشيطان يريد العبد فيما دون ذلك فإذا عصم العبد منه وقع فيما هنالك". (محمد بن عثمان الأذرعي في كتاب الوسوسة) .
١٧١٥۔۔ از مسند نامعلوم۔ امام زھری سے مروی ہے کہ بنی حارثہ انصار کے یحییٰ نامی کسی شخص نے ان کو خبر دی کہ حضور کے کچھ صحابہ کرام حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے کہ ہم شیطان کے ایسے وسوسے اپنے سینوں میں پاتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ثریا ستارے کی بلندی سے نیچے گرے۔۔ اس کو یہ اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ اس وسوسہ کو زبان پر لائے آپ نے دریافت کیا : کیا واقعی تم یہ خیال پاتیہ ہو عرض کیا جی ہاں فرمایا یہ توکھلاایمان ہے شیطان تو اس سے بھی نیچے گرانا چاہتا ہے لیکن بندہ اگر اس سے محفوظ رہے تو اس میں مبتلا کردیتا ہے۔ محمد بن عثمان الاذرعی فی کتاب الوسوسہ۔