1716 - عن ثابت قال: "حججت فدفعت إلى حلقة فيها رجلان أدركا النبي صلى الله عليه وسلم، أخوان أحسب أن اسم أحدهما محمد وهما يتذاكران أمر الوسواس عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، لأن يقع أحد من السماء أحب إليه من أن يتكلم بما يوسوس إليه قال: " قد أصابكم ذلك قالوا نعم يا رسول الله قال فإن ذلك محض الإيمان" قال ثابت: فقلت أنا يا ليت الله أراحنا من ذلك المحض قال فانتهراني وزبراني فقالا نحدثك عن رسول الله وتقول: يا ليت أن الله أراحنا". (البغوي وقال غريب) .
١٧١٦۔۔ ثابت سے مروی ہے کہ میں دوران حج ایک حلقہ میں پہنچا میں ایسے دو حصوں کو پایا جنہوں نے نبی کو پایا تھا دونوں بھائی تھے میرا گمان ہے کہ ان میں سے ایک کا نام محمد تھا وہ دونوں وسوسہ کے متعلق آپ سے منقول حدیث کا مذاکرہ کررہے تھے کہ کسی نے آپ سے عرض کیا اگر کوئی آسمان سے نیچے گرجائے اس کو یہ اس سے زیادہ محبوب ہوگا کہ وہ ان وساوس کو نوک زبان پر لائے۔ اپ نے دریافت کیا یہ بات تم کو پیش آئی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ۔ فرمایا یہ توعین ایمان ہے ثابت کہتے ہیں کہ میں نے اس موقعہ پر کہا کاش اللہ مجھے اس عین سے بھی نجات دے دے۔ اس پر ان دونوں بھائیون نے مجھے سختی سے جھڑکا اور اس سے منع کیا کہ کہا کہ ہم تجھے رسول اللہ کی حدیث نقل کررہے ہیں اور تو ہے کہ اللہ مجھے اس سے بچا کر راحت میں رکھے۔ البغوی۔ حدیث غریب ہے۔