17405- عن سفيان مولى سعد بن أبي وقاص قال: "سمعت عليا وكان قد أدركه قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فدخل عليه رجل من الأنصار وفي يده خاتم من حديد، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: " مالي أرى عليك حلية أهل النار؟ قال: فأتخذه من شبه 1؟ فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: مالي أرى منك ريح الأصنام، قال: فأتخذه من ذهب؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما لي أرى عليك حلية أهل الجنة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اتخذه من فضة ولا تتمه مثقالا". "المخلصي في حديثه".
17405 حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کے غلام سفیان جن کی حضرت علی (رض) سے ملاقات تھی فرماتے ہیں میں نے حضرت علی (رض) کو فرماتے ہو سے سنا :
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا۔ آپ کے پاس ایک انصاری صحابی آیا جس کے ہاتھ میں لوہے کی انگوٹھی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا بات ہے میں تمہارے اوپر اہل جہنم کا زیور دیکھ رہا ہوں ؟ اس نے عرض کیا : کیا میں پیتل کی انگوٹھی بنالوں ؟ فرمایا : کیا بات ہے تم سے بتوں کی بوآرہی ہے ؟ پوچھا : کیا میں سونے کی انگوٹھی بنالوں ؟ فرمایا : کیا بات ہے میں تم پر اہل جنت کا زیور دیکھ رہا ہوں۔ نیز فرمایا : اس کو چاندی کی بنالے اور سونے کی نہ بنا۔ المخلصی فی حدیثہ