hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 1745

.

كنز العمال

1745
Kanz al-Ummal
1745 - عن عطاء "أن رجلا كانت له جارية في غنم ترعاها، وكانت له شاة صفى يعني عزيزة في غنمه تلك فأراد أن يعطيها نبي الله صلى الله عليه وسلم فجاء السبع فانتزع ضرعها، فغضب الرجل فصك وجه جاريته فجاء نبي الله صلى الله عليه وسلم فذكر أنها كانت عليه رقبة مؤمنة، وأنه قد هم أن يجعلها إياها حين صكها فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ائتني بها فسألها النبي صلى الله عليه وسلم أتشهدين أن لا إله إلا الله قالت: نعم وأن محمدا عبده ورسوله قالت: نعم وأن الموت والبعث حق، قالت: نعم وأن الجنة والنار حق، قالت: نعم، فلما فرغت قال أعتقها أو أمسك". (عب) .
١٧٤٥۔۔ حضرت عطاء سے مروی ہے کہ ایک شخص کے پاس باندی تھی، جو اس کی بکریاں چراتی تھی، ریوڑ میں مالک کی ایک ایسی بکری بھی تھی جو اسے بہت مرغوب و پسندیدہ تھی، جس کے متعلق مالک کا ارادہ تھا کہ وہ بکری آپ کو ہدیہ کردے گا، لیکن سوء اتفاق سے بھیڑئیے نے آکراسی بکری پر حملہ کیا اور اس کے تھن کھینچ لیے مالک کو غصہ آیا تو اس نے چرواہی باندی کو منہ پر طمانچہ رسید کیا، لیکن پھرنادم ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اس کے ذمہ پہلے سے ایک مومن جان آزاد کرنا واجب تھا توطمانچہ مارتے وقت اسے خیال آیا کہ اب اسی کو آزاد کردیا جائے ؟ آپ نے اس باندی کو بلوایا اور اس سے سوال کیا : کیا تولاالہ الا اللہ کی شہادت دیتی ہے ؟ عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا اس بات کی بھی کہ محمداللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا اس بات کی بھی کہ مرنا اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا برحق ہے ؟ عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا اس بات کی بھی کہ جنت وجہنم برحق ہے ؟ عرض کیا جی ہاں تو اس کے بعد آپ نے مالک کو فرمایا : اس کو آزاد کرسکتے ہو اور روکنے کا بھی اختیار ہے۔ المصنف لعبدالرزاق۔