1746 - عن يحيى بن أبي كثير قال: " صك رجل جارية، فجاء بها النبي صلى الله عليه وآله وسلم يستشيره في عتقها فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم أين ربك؟ فأشارت إلى السماء قال: من أنا قالت: أنت رسول الله قال أحسبه أيضا ذكر البعث بعد الموت والجنة والنار، ثم قال: أعتقها فإنها مؤمنة". (عب) .
١٧٤٦۔۔ یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی باندی کو تھپڑ رسید کیا تھا پھر وہ اسے لے کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کی آزادی کے متعلق مشورہ طلب کیا، آپ نے اس باندی کے مومنہ ہونے کی تصدیق کرنے کے لیے اس باندی سے پوچھا : اللہ کہاں ہے ؟ باندی نے سر کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ پھر آپ نے پوچھا میں کون ہوں ؟ باندی نے عرض کیا اللہ کے رسول۔ راوی کہتے میرا خیال ہے کہ آپ نے بعث بعد الموت اور جنت وجہنم کا تذکرہ بھی فرمایا پھر اس شخص نے فرمایا اسی کو آزاد کرو کیونکہ یہ بھی مومنہ ہے۔ المصنف لعبدالرزاق۔