18602- عن الحسن قال: دخل عمر بن الخطاب على النبي صلى الله عليه وسلم فرآه على حصير أو سرير قد أثر بجنبه، وفي البيت أهب عطنة، فبكى عمر، فقال: ما يبكيك يا عمر؟ قال: أنت نبي الله وكسرى وقيصر على أسرة الذهب، قال: يا عمر أما ترضى أن تكون لهم الدنيا ولنا الآخرة. "ابن سعد".
18602 ۔۔۔ حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوئے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چٹائی یا تخت پر لیٹادیکھا جس کے اثرات آپ کے جسم پر نمایاں نظر آرہے تھے ۔ کمرے میں جانور کی کھال دباغت میں پڑی ہوئی تھی ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) رو پڑے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! کیوں رو رہے ہو ؟ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے عرض کیا : آپ اللہ کے نبی ہیں۔ جب کہ قیصر و کسری (شاہان روم وفارس) سونے کے تختوں پر آرام کرتے ہیں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ۔ (رواہ ابن سعد)