18603- عن عطاء قال: دخل عمر بن الخطاب على النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم وهو مضطجع على ضجاع من أدم محشو ليفا وفي البيت أهبة ملقاة فبكى عمر، فقال: ما يبكيك يا عمر؟ قال: أبكي أن كسرى في الخز والقز والحرير والديباج، وقيصر مثل ذلك، وأنت حبيب الله وخيرته كما أرى، قال: لا تبك يا عمر، فلو أشاء أن تسير الجبال ذهبا لسارت، ولو أن الدنيا تعدل عند الله جناح ذباب ما أعطي كافر منها شيئا. "ابن سعد".
18603 ۔۔۔ حضرت عطاء (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس داخل ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چمڑے کے بچھونے پر استراحت فرما رہے تھے ۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ، کمرے میں کچھ کھالیں دباغت میں پڑی ہوئی تھیں ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) رونے لگے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عمر ! تم کو کس چیز نے رلایا ؟ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے عرض کیا میں اس بات پر رو رہا ہوں کہ کسری (شاہ ایران) ریشم ، دیباج اور حریر پر سوتے ہیں۔ اسی طرح قیصر بھی ، اور آپ اللہ کے محبوب ہیں اس کے سب سے بہترین بندے ہیں اور اس حال میں جیسے کہ میں دیکھ رہا ہوں ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! نہ رو ۔ لیکن اگر اللہ کے نزدیک دنیا کی حیثیت مکھی کے پر جتنی بھی ہوتی تو کسی کافر کو دنیا میں سے کچھ نہ ملتا ۔ (رواہ ابن سعد)