18628- عن أبي هريرة قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي جالسا، فقلت: يا رسول الله أراك تصلي جالسا، فما أصابك؟ قال: الجوع يا أبا هريرة، فبكيت، فقال: لا تبك يا أبا هريرة فإن شدة الحساب يوم القيامة، لا تصيب الجائع إذا احتسب في دار الدنيا. "حل خط، كر".
18628 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا ۔ آپ بیٹھ کر نماز ادا فرما رہے تھے ۔ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! میں آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتا دیکھ رہا ہوں ، آپ کو کیا تکلیف پیش آئی ہے ؟ فرمایا : ابوہریرہ ! یہ بھوک ہے۔ میں رو پڑا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابوہریرہ ! رو مت بیشک حساب کتاب کی سختی قیامت کے روز بھوکے کو نہیں ہوگی جب وہ دنیا میں اس کے عوض ثواب کی امید (میں صبر) کرے ۔ (حلیۃ الاولیاء الخطیب فی التاریخ ، ابن عساکر)