18637- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله أن يعطيه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما عندي شيء، ولكن استقرض حتى يأتينا شيء فنعطيك، فقال عمر: يا رسول الله هذا أعطيته ما عندك فما كلفك ما لا تقدر عليه، فكره النبي صلى الله عليه وسلم قول عمر حتى عرف في وجهه، فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله أنفق ولا تخف من ذي العرش إقلالا، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى عرف البشر في وجهه بقول الأنصاري، ثم قال: بهذا أمرت. "ت في الشمائل والبزار وابن جرير والخرائطي في مكارم الأخلاق. ص".
18637 ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا ۔ اور کچھ سوال کیا ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فی الحال میرے پاس کچھ نہیں ہے تم ایسا کرو کسی سے قرض لے لو جیسے ہی ہمارے پاس کچھ آئے گا ہم تم کو عطا کردیں گے ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے جو کچھ آپ کے پاس ہے عطا کردیا ۔ جو ہمارے پاس نہیں ہے اللہ نے ہمیں اسے دینے کا مکلف نہیں کیا ۔ یہ بات حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناگوار لگی ۔ جس کا اثر آپ کے چہرے میں بھی محسوس ہوا ۔ ایک انصاری شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! خرچ کیجئے اور عرش والے سے کمی کا ڈر نہ کیجئے ۔ یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا دیئے حتی کہ اس انصاری کے قول کا خوش گوار اثر آپ کے چہرے میں بھی دیکھا گیا ۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے اسی کا حکم ملا ہے۔ (ترمذی ، فی الشمائل ، البزار ، ابن جریر ، الخرائطی فی مکارم الاخلاق ، الضیاء للمقدسی)