18638- عن سهل بن سعد قال: جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ببردة، قال سهل: هي شملة منسوجة فيها حاشيتها، فقالت: يا رسول الله جئتك أكسوك هذه، فأخذها رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان محتاجا إليها فلبسها، فرآها عليه رجل من أصحابه فقال: يا رسول الله ما أحسن هذه أكسنيها، فقال: نعم، فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم لامه أصحابه وقالوا: ما أحسنت حين رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذها محتاجا إليها، ثم سألته إياها وقد عرفت أنه لا يسأل شيئا فيمنعه، قال: والله ما حملني على ذلك إلا رجوت بركتها حين لبسها رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي أكفن فيها. "ابن جرير".
18638 ۔۔۔ سہل بن سعد سے مروی ہے کہ ایک عورت ایک چادر لے کر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ حضرت سہل (رض) نے فرمایا : اس چادر کے حاشیے بنے ہوئے ہیں (اور یہ عمدہ چادر ہے) عورت بولی : یا رسول اللہ ! میں اس لیے حاضر ہوئی ہوں کہ آپ کو یہ چادر پہننے کے لیے دوں ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ چادر لے لی اور آپ اس کے محتاج بھی تھے ۔ لہٰذا آپ نے وہ چادر لے کر زیب تن فرما لی ۔ اصحاب میں سے ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیسی عمدہ چادر ہے یہ آپ مجھے عنایت کردیں تو ! حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں بالکل۔ (اور آپ نے وہ چادر اس صحابی کو عنایت فرما دی) جب آپ کھڑے ہو کر چلے گئے تو دوسرے اصحاب نے اس صحابی کو ملامت کی کہ تم نے اچھا نہیں کیا تم نے دیکھا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس چادر کے محتاج ہیں پھر تم نے وہ مانگ لی جب کہ تم کو معلوم ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جس چیز کا سوال کیا جاتا ہے آپ اس سے منع نہیں فرماتے ۔ اس صحابی نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے اس کام پر اس برکت کی امید نے مجبور کیا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہناوے کو میں لے لوں پھر اس میں مجھے کفن دیا جائے ۔ (ابن جریر)