18733- عن قباث بن أشيم أنه سئل أنت أكبر أو رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم أكبر مني، وأنا أقدم منه بعشرين سنة، ولد رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفيل، ووقفت بي أمي على روث الفيل محيلا أعقله، ونبئ رسول الله صلى الله عليه وسلم على رأس أربعين من الفيل."كر".
"وفاته صلى الله عليه وسلم"
18733 ۔۔۔ قباث بن اشیم (رض) سے مروی ہے ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ بڑے ہیں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ؟ انھوں نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے بڑے ہیں اور میں آپ سے بیس سال پہلے پیدا ہوا تھا ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عام الفیل میں پیدا ہوئے تھے ۔ ان ہاتھیوں کے گوبر پر میری مجھے لے کر کھڑی ہوئی تھی ، اور مجھے اس واقعے کی پوری سمجھ تھی ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس واقع کی اطلاع چالیسویں سال دی گئی تھی ۔ (رواہ ابن عساکر) فائدہ : ۔۔۔ سورة فیل میں اس واقعے کا ذکر ہے ، عام الفیل یعنی ہاتھیوں والے سال ۔ اس سال ابرہہ کافر بادشاہ نے ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ کعبۃ اللہ پر حملہ کیا تھا جس میں اس کو دردناک شکست کا سامنا ہوا ۔ اسی سال حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیدا ہوئے ۔ جبکہ قباث بن اشیم (رض) اس سال بیس سال کی عمر میں تھے ۔ ابرہہ کی شکست کے بعد عرب کعبہ کے گرد اکٹھا ہوئے تو ان میں یہ بھی اپنی والدہ کے ساتھ وہاں کھڑے تھے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور میراث کا ذکر :