18734- عن أنس قال: لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أبو بكر لعمر: انطلق بنا نزور أم أيمن كما كان النبي صلى الله عليه وسلم يزورها فانطلقنا، فجعلت تبكي، فقالا لها: يا أم أيمن إن ما عند الله خير لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: قد علمت ما عند الله خير لرسول الله، ولكن أبكي على خبر السماء انقطع عنا، فهيجتهما على البكاء، فجعلا يبكيان معها. "ش م ع وأبو عوانة".
18734 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو فرمایا : چلو ام ایمن کی زیارت کریں ، جیسے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی زیارت کو جاتے تھے ۔ (انہوں نے نبی اکرم کی پرورش فرمائی تھی یہ باندی آپ کو اپنے والد کی طرف سے ورثہ میں ملی تھی جسے آپ نے بڑے ہو کر آزاد فرما دیا تھا۔ ) یہ حضرات ام ایمن کے پاس پہنچے تو وہ رو پڑیں۔ دونوں حضرات نے ان سے عرض کیا ، ام ایمن ! اللہ کے ہاں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے زیادہ خیر ہے۔ ام ایمن بولی : میں جانتی ہوں کہ اللہ کے ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے زیادہ خیر ہے لیکن میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ آسمان کی خبریں ہم پر آنا بند ہوگئی ہیں۔ اس بات نے دونوں حضرات کو بھی برانگیختہ کردیا (اور بھڑکا دیا) پھر دونوں حضرات بھی ام ایمن کے ساتھ خوب روئے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، مسلم ، مسند ابی یعلی ، ابو عوانہ)